”سو کر اٹھنے پر بھی تھکاوٹ دور نہ ہونا“

کئی لوگ رات بھر پوری نیند لینے کے باوجود جب صبح اٹھتے ہیں۔ تو بدن میں تھکن ،سستی اور طبیعت میں بھاری پن محسوس کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض لوگ پیشاب پاخانہ سے فارغ ہونے کے بعد کچھ بہتر ی محسوس کرتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ جب تک غسل نہ کرلیں۔ تو طبیعت کی سستی اور کاہلی دور نہیں ہوتی ہے۔ عام طور پر لو گ اس مسئلے کے حل کے لیے دن بھر کی ایکٹو رہنے کی کسی بھی کمپنی کوئی گولی کھانا شرو ع کردیتے ہیں۔ جس سے انہیں کچھ دن فائدہ محسو س ہوتاہے۔

لیکن یہ انہیں نفسیاتی مریض بنا دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بلاوجہ دواکھارہے ہیں۔ اور پھر ایسی دوا مسلسل دو تین ماہ کھاتے رہنےسے بدن میں نئی علامات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ جن کے علاج کے لیے الگ سے دوا کھانا پڑتی ہے۔ اور اس طرح اچھا خاصا تندرست انسان مریض بن جاتا ہے۔ لہٰذ ااگر آپ میں ایسی علامات پائی جاتی ہیں کہ آپ صبح فریش نہیں اٹھتے ہیں۔ اور بدن میں تھکان محسوس کرتے ہیں۔ تو سب سےپہلے اس کے اصل سبب کو تلاش کریں۔ اور اسے دور کردیں۔

انشاءاللہ! آپ کو اس مسئلے سے نجات مل جائےگی۔ آج ہم آپ کو اس کے بنیادی اسباب اور بہت ہی آسان گھریلو علاج کے بارے میں بتانے جارہے ہیں۔ اس کے بنیادی اسباب میں سے سب سے اہم سبب یورک ایسڈ کی زیادتی ہے۔ اگر آپ کے گردے خ ون میں سے فاضل مادوں کو مکمل طور پر فلٹرکرکے پیشاب کے راستے خارج نہیں کرتے ہیں۔ یا گردوں کا فعل سست پڑ جانے کے باعث یور ک ایسڈ کے کرسٹلز گردوں میں جمع ہونے لگے ہیں۔ تو ایسی صورت میں آپ کو صبح سویرے اٹھنے پر بدن میں تھکاوٹ کاسامنا ہوسکتا ہے۔

ایسے میں گردوں کے مقام پر ہلکا بوجھ اور بھاری پن محسوس ہوتا ہے۔ سردرد کی شکایت ہوسکتی ہے۔ جسم کے چھوٹے جوڑوں میں یعنی ہاتھوں پاؤں کی انگلیوں میں سوجن یا درد کی شکایت ہوسکتی ہے۔ پاؤں کے تلوے یا ایڑی میں درد ہوسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اکثر صبح چھوٹا پیشاب کرلینے کےبعد طبیعت میں کچھ بہتری محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح آپ کو قبض کی شکایت رہتی ہے ۔ چوبیس گھنٹوں میں کم سے کم ایک بار پیٹ اچھی طرح سے صاف نہیں ہوتا ہے ۔ غذا دیر تک معدے اور آنتوں میں پڑی سٹرتی رہتی ہے ۔

تو اس سے تیزابی مادے پیدا ہوتے ہیں اور بخارات اٹھ کر دماغ کی طرف چلتے رہتے ہیں۔ دماغ اور اعصاب میں تناؤ محسوس ہوتا ہے ۔ جو اس طرح کی تھکان اور سستی کاسبب بنتا ہے۔ لہٰذا پیشاب اور پاخانہ دونوں کا وقت پر صیحح طریقے سے آتے رہنا بے حد ضروری ہے۔ چنانچہ ایسی صورت میں کھیرے کا استعمال ضرور کریں۔ کھیرا کے استعمال سے پیشاب کھل کرآتا ہے۔ اور گردوں کی صفائی کرنے کے لیے بہت ہی لاجواب چیز ہے۔ لہٰذادن میں کم سے کم دو کھیرے استعمال کریں۔

خربوزے کاموسم ہوتو خربوزہ ضرور کھائیں۔ اسی طرح آپ تربوز کا استعمال کرسکتےہیں۔ یہ دونوں ہی گردوں کو ڈی ٹاکس کرنے کےلیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بدن میں کیلشیم کی کمی سے اس طرح کی تھکاوٹ ، سستی اور کم ہمتی کا سبب ہوسکتی ہے۔ایسے لوگوں کو جسم کے مختلف حصوں میں درد ہوتا رہتا ہے۔ کبھی ٹانگوں ، پنڈلیوں میں درد ہوتا ہے۔ تو کبھی کمر میں درد رہتاہے۔ ہڈیوں اور پٹھوں میں کمزوری محسو س ہوتی ہے۔ کسی بھی کام کے کرنےسے جلدی تھک جانا

اٹھتے بیٹھتے ہڈیوں کا چٹخنا ، قوت باہ میں کمی محسوس ہونا، دانتوں ہڈیوں ، ناخنوں اور بالوں سے متعلق مسائل کا سامنا رہنا۔ کیلشیم کی کمی کی واضح علامات ہیں۔ چنانچہ ایسی صورت کیلشیم سے بھرپور غذاؤں کا استعمال کریں۔ اس کے لیے بہترین چیز ہڈی کی یخنی ہے۔لمبی نلی دار ہڈیاں لے کر ان کا سوپ تیار کریں۔ ہفتے میں کم سے کم دو تین دن اسے استعمال کریں یہ کیلشیم کی کمی کا انتہائی بہترین علاج ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.