شادی کی رات دولہا بدل گیا

انچی مصیبت گلے پڑ گئی ہے مارے غصے کے اس نے رسیور کریڈل پر پٹکا ۔ کیا ہوا عذرابھالی نے دوپٹے پر لیس لگاتے ہوۓ پو چل ۔ ہونا کیا ہے بھابھی موصوف کا پھر فون آیا تھا بات کر لی ہوتی نہ تم نے بھابھی بولی آپ کے کہنے پر ہی میں نے ایک بار بات کی تھی بھا بھی اور اب بار بار کرنی پڑ رہی ہے وہ بیزاری سے بولی ۔

دیکھو نابیلا کتنا اچھارشتہ ہے لوئر مڈل کلاس لو گوں کہ ہاں بھلا ایسے رشتہ کب آتے ہیں یہ تو اللہ کا کرم ہے اس نے اتنا اچھا تمہارے لئے پر بھیجا اور نہ کون پوچھتا ہے اور تم ناشکرا پن مت کرواچھافون کر تا ہے تو بات کر لینے میں حرج ہی کیا ہے آخر تمہارامنگیتر ہے نا وہ عذرابھا بھی اسے سمجھارہی تھی بھابی بات تو کر لیتی ہوں مگر وہ ایک دم چپ ہو گئی ہو

مگر کیا مگر وہ صرف بات ہی تو نہیں کر ناچاہتا نا کیا مطلب کہتا ہے میں تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں ۔ اے لو کیا پہلے نہیں دیکھا تھا بھابھی کے لیجے میں شک تھارے نہیں بھا بھی بیلہ نے کہا ہم تو سمجھے تھے کہ تمہیں دیکھ کر ہی اس نے رشتہ بھیجا ہے آخر اس کی بہن تمہاری کلاس فیلو تھے ناہاں بھا بھی ہما تو میری کلاس فیلو بھی تھی

اور دوست بھی مگر بھا بھی میں نے اس کے بھائی کو کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ اچھا گروہ کہتا ہے تو مل لو نایوں بھی شرع میں بھی اجازت ہے کہ لڑکا لڑ کی ایک دوسرے کو دیکھ لے ۔ رہنے دیں بھا بھی مجھے نہیں ملنا اور یوں بھی شادی میں صرف دس روز رہ کئے ہیں اب آپ زیادہ آزاد خیال نہ بنے بھابی اماں کو پتا چل گیا ناتوایک نئی مصیبت کھڑی کر دی گی

اور پتا نہیں ہتھیلی پر سرسوں جمانے کو ان کو کس نے کہا تھا ۔ رشتہ آیا فورامنظور کر کے تاریخ دے دی بیلہ نے دل میں چھپا سوال کر ڈالا اے بی بچ جانو تو ہم سمجھے تمہاری منشا ہے اس رشتے میں ۔ اسی لئے تو ابونے کوئی ای وی بات نہیں کی کیا ۔ کیا آپ لوگوں نے ایسا سمجھا تھا مارے حیرت کے اس کی تو آواز ہی نہیں نکل رہی تھی —

اتنے اونچے گھرانے اور اونچے عہدے کے بندے کو آخر معمولی کلرک کی راہ کسی نے تو د کھائی ہو گی نا ۔ ہاں تو بھا بھی آپ لوگ سمجھے کہ وہ راہ میں نے دکھائی ہے بیلا بولی ۔ بالکل اف میرے خدا اس کا تو دماغ ہی چٹخنے لگا تھا ۔ اور بھا بھی کام میں مصروف ہو گئی یاخدا میں اتنی بے اعتبار ہو گئی تھی کہ کسی نے مجھ سے پوچھا بھی نہیں خود بخود مفروضے گھڑ لیے ۔

کیا اماں ابا کو مجھ پر اعتبار نہ تھا وہ بیلہ زمان دو ہفتے قبل ہی تو میڈیکل کے فائنل ایئر کا امتحان دے کر گھر آئی تھی ۔ اور یہاں آکر اسے پتا چلا تھا کہ ایک روز قبل اس کی کلاس فیلو ہا اور اس کے گھر والے اس کے پر پوزل کے سلسلے میں آۓ تھے ۔ جمال فاروق سی ایس پی افسر تھا اور ان دنوں اس کی اسلام آباد میں پوسٹنگ تھی ماں اہانے اس سے پوچھے بغیر حامی بھر لی تھی

کہ ہمانے انہیں یقین دلا یا تھا کہ وہ دونوں بیٹ فرینڈز ہیں اور سب یہی سمجھے تھے کہ بیلہ کی مرضی بھی ہے اسی لئے تو اب بھی خاموش تھے پھر فاروق صاحب کی خواہش پر جلد تاریخ دے دی گئی تھی ۔ کیونکہ جمال کسی کورس کے سلسلے میں ایک ماہ بعد پیرس جار ہا تھا وہ اپنی بیوی کو ساتھ لے کر جانا چاہتا تھا خاندان میں بیلہ پر رشک کر رہے تھے بڑا اونچا ہاتھ مارا ہے

اڑتا اڑ تایہ جملہ اس کے کانوں میں بھی پڑا تھا مگر اس نے پرواہ نا کی تھی۔اری بیلہ کہاں گئی وہ تمہاری دوست ہما کا فون ہے بیلہ کی بڑی بہن جو اس کی شادی کے سلسلے میں آئی ہوئی تھی انہوں نے ان کو اطلاع دی ۔ بیلہ بیزار سی اٹھ کر فون کے قریب آئی ۔ ہیلو کیا حال ہے بھا بھو جانی ہما چہک رہی تھی کیوں فون کیا ہے تم نے بیلہ سخت لہجے میں گویا ہوئی

بھئی تم نے میرے بھائی کو تو دیوانہ کر دیا ہے تمہاری آواز کے سحر میں وہ تو جکڑے کئے ہیں کیا بکواس ہے ہما یار ان سے مل لو نا ایک بار پر کیا ضرورت ہے یہ ملنے کی پلیز بیلہ ایک بار اپنے لونا درشن کر وادو میرے بھیا کو دیکھو ہا مجھے یہ فضولیات بالکل پسند ہما نہیں میں کوئی لولی لنگری نہیں ہوں ناہی بد صورت ہوں تصویر دیکھی تھی نہ تمہارے بھائی نے ہاں یار یہ سب انہیں بھی پتا ہے

تمہیں علم نہ ہو بھائی چاہتے تھے کہ ان کی بیوی خو بصورت ہو اور ڈاکٹر ہو ۔ اب جب ہم بھی کوئی لڑکی دیکھنے جاتے تو ڈاکٹر ہوتی تو خو بصورت نا ہوتی اور اگر خو بصورت ہوتی تو ڈاکٹر ناہوتی ایک روز میں نے تمہیں غور سے دیکھا تو پتا چلاتم تو بھائی کی پسند پر ایک سو ایک فیصد پوری اترتی ہوں تمہیں یاد ہو میں نے مامااور آپی سے تمہیں ملوایا تھا

ہاں مجھے سب یاد ہے ہما اور انہوں نے بھی تمہیں پسند کیا تھابس فائنل امتحان ہوتے ہی ہم تمہارے گھر پانچ گئے اتفاق سے بھائی بھی آۓ ہوۓ تھے اور تمہیں اس روز گھر پہنچ جانا تھا مگر شاید تمہیں اپنی دوست کے ساتھ گھر واپس آنا تھاوہ نا آ سکی تو تم بھی نا آئی ۔ اور ہم ضد کر کے ڈیٹ لے کر ہی آۓ اور مزے کی بات یہ کہ دوسرے روز میں اور بھائی ہو سٹل بھی گئے تھے

پتا چلا کہ تم تو صرف چند منٹ پہلے ہی فیصل آباد روانہ ہو گئی ہو پھر ہم لاری اڈے پر بھی کئے پر تم لوگ ہمیں نہ ملے بھائی واپس چلے گئے اور اب تم کو دیکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ ممکن نہیں ہے مما یار مایار کیا دقیانوسی باتیں کر رہی ہو آخر تمہاری ان سے شادی ہو رہی ہے پر مجھے یہ سب پسند نہیں ہے ہماتم انہیں پلیز بتادو ۔ میں نے ان کو تمہاری تصویر بھی دکھائی ہے

جو جناح پارک میں ہم لو گوں نے کھچوائی تھی مگر وہ کہتے ہیں نا که تصویر تیری میرادل نہ بہلا سکے گی خیر تم نے بھی اچھا نہیں کیا وہ بولی تم سوچ لو بیلہ مانے کہا ۔ سوچ لیا ہے یار کہہ جو دیا ہے تمہیں نہیں کرنی مجھے اپنی نمائش اس کالہجہ سخت تھا اور پھر رسیور دوسری طرف سے ہما کے ہاتھ سے اس کے بھائی جمال کے ہاتھ میں جا چکا تھا ۔

یوں بھی عذرا بھابی اس کے عہدے اور امیر گھرانے سے خاصی متاثر تھی انھوں نے ہی اس کی جمال سے بات کرائی تھی دیکھو بیچارا کتنی دور سے فون کرتا ہے تمہاری خاطر بات کر لینے میں کیا حرج ہے بیلہ ۔ فون سے نکل کر کھاتو نہی جاۓ گا نہ تمہیں اور ر عذرابھابھی کی باتوں میں آکر بیلہ فون سن بیٹھی تھی جو اب اس راب کے حلق میں اٹک گیا تھا

اسے خود پر غصہ آرہا تھا کہ آخر اس نے عذرابھا بھی کی بات کیوں مانی آج مایوں کی رسم تھی ۔ ڈھولک کی تھاپ پر لڑکیاں گیت گارہی تھی شور میں تو کان پڑی آواز بھی سنائی نادیتی تھی تب ہی زہرہ پھو پھو آ گئی ۔ لڑکیوں کے جھرمٹ میں بیٹھی بیلہ کو انہوں نے کھینچ کر گلے لگایا اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رودی پچھو چو پلیز اسے وحشت ہونے گی تمہیں تو میری بہو بنا تھا

نا تمہارے ابازمان نے میرے ساتھ بڑا ظلم کیا ہے بیلہ تو تو پیدا ہوئی تھی تو میں نے اپنے انور کا نام ڈال دیا تھا مگر ۔۔۔ پھر ان کی آواز آنسوؤں میں گھٹ گئی ارے زہر ابی اب رونے کا کیا فائدہ اماں نے انہیں گلے لگالیا بھابی یہ تم لو گوں نے میرے ساتھ کیا کیا ہے آخر کیا کی ہے میرے انور میں سولہ جماعت پاس ہیں اچھی نوکری بھی مل جاۓ گی

بس امیر گھر کو دیکھ کر تمہیں نند نہ یاد رہی چلو تم تو بھاوج ہو بھائی کو بہن یاد نہ رہی ۔ میرے اللہ اب تو خون ہی سفید ہو گیا ہے زہرہ پھو پھو تو سینے پر ہاتھ مار مار کر رورہی تھی اے لڑکیوں تم گاؤز کیہ پھو پھونے کہا اور پھر بہن سے کہنے لگیں کیوں تماشابنا م رہی ہوں بہن نصیب کی بات ہے خوش ہو کہ اتنے امیر گھر میں بھیجی جارہی ہے ارے وہ ڈاکٹر نی بن گئی ہے اب

اب رشتہ بھی تو اس کے شایان شان ہو نا چاہیے ناگھر بھی اچھا ہو خدانے مقدر کھولا ہے اور تم واویلا مچار ہی ہو ۔ زکیہ پھو پھونے اپنی بہن زہرہ کی اچھی طرح سے کلاس لی تب جاکر ان کار ونادھو ناختم ہوابیلہ کی رسم مایوں بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی گھر کے سامنے میدان میں ٹیٹ لگا کر مایوں کی رسم ادا کی گئی مگر بیلہ کی رخصتی

یعنی برات والے دن کے لیے اس کے ابو زمان نے ہال بک کرایا تھا کہ سد ھی امیر تھے اور جب اپٹوں سے ہٹ کر رشتے داری کی جاتی ہیں تو جادر سے پاؤں نکالنے ہی پڑتے ہیں ۔ اپنی حیثیت سے بڑھ کر انہوں نے تمام کیا تھا بیلہ کے دونوں بھائیوں نے فیکٹری سے ایڈوانس لیا تھا جبکہ ابو زمان نے اپنی ساری جمع پونجی بیلہ کی شادی کی نذر کر دی تھی

اتنا خرچ انہوں نے تین سال قبل اپنی بڑی بیٹی کی شادی میں بھی نہیں کیا تھا اور پھر شادی کا دن بھی آگیا ۔ خصوصی طور پر اس کے سسرال والوں نے لاہور سے بیوٹیشن کو ان کے ہاں ن بھیجا تھا بارات آ جانے پر بیلہ کو بھی بال کی طرف لے جایا گیا تھا بارات آنے کے بعد نکاح کی رسم ہونی تھی کہ بیلہ کو محسوس ہوا کہ کوئی گڑ بڑ ہو گئی ہے

کیا ہوا آپی اس نے گھبرائی ہوئی اپنی بڑی بہن سے پو چھارے کچھ نہیں تم فکر نہ کرو ۔ اے لو پہلے نہیں کہہ سکتا تھا اب این شادی کے دن یہ کوئی تک تو نہیں لوگ کیا کہیں گے نکاح سے پہلے ہم لڑ کی کی نمائش کر میں اماں شاید اباسے ہم کلام تھی مگر کیا کیا جاۓ بیٹا اب آپ ہی بولو ابا اس کے قریب آۓ می ابا میں سن رہی ہوں اور سمجھ بھی رہی ہوں

اسے اپنے ابا کے چہرے پر پھیلا د کھ صاف نظر آ رہا تھا تو بیٹی پھر کہہ دو وہ یہاں آ جاۓ کتنے مجبور ہو گئے تھے نااس کے اہل ۔ ابا جمال کی شرط پوری کر دے مگر پھر جو ہو اسے میر امقدر جانے گا بیلہ نے کہا تو پھر بڑی بہن جلدی سے بولی ارے تم اتنی خوبصورت ہو وہ بھلا تمہیں کیوں ریجکٹ کرے گا ۔ اہامیں وہی ہال میں اس کے پاس جاؤ گی

بیلہ اپنی بہن کی بات کو ان سنی کر کے بولی کیا کہہ رہی ہو بیٹا یہ میری شرط ہے ابا تماشا ہو تو پھر جم کے ہو وہ مسکرائی۔ابا سمجھ گئے کہ بحث فضول ہے انہوں نے سر جھکا دیا اور بیلہ ان کے ساتھ نے ان اس طرح چل دی جہاں باراتیوں کے بیٹھنے کا انتظام تھاوہ هر نکالیں ابا کا ہاتھ تھامے نہایت اعتماد سے وہاں آئی تھی سب حیران تھے کہ دلہن یہاں کیسے وہ جمال کے قریب جا کر رک گئی ۔

اور گھو نگھٹ الٹ دیا جمال کو تو لگا جیسے چار سو اجالا ہو گیا ہوں ۔ ایک دم کھڑا ہو گیا وہ تو اس کے تصور سے بھی زیادہ حسین تھی ۔ مجھے دیکھ لیاجمال صاحب آپ نے وہ نہایت اعتماد سے پوچھ رہی تھی ۔ بی بی ۔۔۔ وہ ہکلاتارہ گیاب کیا حکم ہے بیلہ ابر و چڑھا کر پوچھ رہی تھی ۔ نکاح پڑھایا جاۓ مولوی صاحب مجھے منظور ہے جمال نے گردن تان کر فخر سے کہا

مگر مولوی صاحب مجھے جمال منظور نہیں ہے ۔ بیلہ کی آواز ا ابھری جمال کو لگا جیسے مچت اس پر آرہی ہو ہال میں عجیب سا شور مچ گیا ۔ اگر میں آج آپ کو پسند نہ آئی تو آپ نکاح سے انکار کر دیتے ناتو میں اب نکاح سے انکار کرتی ہوں جہاں بزرگوں ا کے فیصلے کو آپ نے اہمیت نہیں دی کہ ہمارارشتہ بزرگوں نے ہی طے کیا تھا ناتو اب میں آپ کا فیصلہ نہیں مانوں گی ۔

انکل آپ اپنے بیٹے کی بارات لے جا سکتے ہیں بیلہ نے فاروق صاحب سے مخاطب ہو کر کہا ۔ اور پھر رکی نہیں وہ ہال کے اس کمرے میں بند ہوں گئی جہاں سے اباسے لے کر گئے تھے باہر در وازہ پیٹتار ہا مگر اس نے نہ کھولا اس کی آنکھ سے ایک بھی آنسو نہ ٹپکا تھا پتا نہیں کیوں دل کو ایک عجیب سا اطمینان ہوا تھا اور پھر اتا کی آواز آئی بیلہ بیٹا دروازہ کھولو بارات جاچکی ہے

اور پھر اس نے دروازہ کھولا تو سامنے ابا کھڑے تھے ۔ وہ ان کے سینے سے لگ کر بے تحاشہ رودی ابایہ شخص اچھا نہیں تھایہ ہمیشہ ابابی چھانہیں تھا ہمیں بلیک میل کر تار ہتا آج اتنے لوگوں میں رکھی گئی کرتارہتا اس کی اس شرط کو مان لیتے نہ ہم ابا تو ہم اس کے ہاتھ میں کٹھ پلی رہتے اور پھر اس کا انجام کیا ہو تا ابا پتا ہے نا آپ لو گوں کو یا تو مجھے آپ لوگوں کو مچوڑ نا پڑتا

یا اس تکبر کے مارے شخص کو اور میں نے اس کے ساتھ چلنے سے پہلے ہی اس کو چھوڑ دیا ہے ۔ مجھے پسند آیا ہے بیٹی تمہارا یہ فیصلہ مجھ سے جلد بازی میں غلط فیصلہ ہو گیا تھا اب اگر تم مانو تو زہرہ پھو پھو کے ساتھ تمہیں بھیج دوانہوں نے پو چھا تو بیلہ نے فور اسر جھکا دیا اور باپ نے اپنی بیٹی کو گلے سے لگا دیا اور پھر اس رات پھولوں کی بیج میں انور اس کا ہاتھ تھامے کہہ رہا تھا

آنا تمہیں میرے غریب خانے میں تھا بھلا محل میں کیسے جاسکتی تھی آپ کا دل کسی محل سے کم تو نہیں انور ۔ اس نے شرم دی مسکراہٹ سے کہا ٹ تو انور ہنس دیا اور بولا اگر تمہارے نصیب میں ہیں تو انشاءاللہ بڑا گھر بھی مل جاۓ گا اور واقعی اس کا نصیب ہی تو تھا کہ جس روز وہ مکلاوے سے واپس آئی تھی تو انور نے بتایا

کہ اس نے سی ایس ایس کا امتحان کلیئر کر لیا ہے اور جلد ہی وہ ٹرینگ کے لئے اکیڈمی چلا جاۓ گا ۔ آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا تھابیلہ کے لہجے میں شکوہ تھا یار میں نے سوچا پتا نہیں پاس بھی ہوتا ہوں یا نہیں انور نے کہا ۔ کیوں نہیں پاس ہونا تھا اتنے ذہین تو ہے آپ۔ارے میری پیاری بیلہ میرے پاس کوی سفارش نہیں تھی

وہ دکھ سے بولا پر اللہ کی سفارش بھول کئے آپ ۔ ہاں بچ ہے تم بھی تو اللہ کی سفارش سے ہی ملی ہوں مجھے الور نے اس کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا تو بیلا کو لگا جیسے ڈھیر ساری روشنی اس کے وجود میں ٹھنڈک بن کر اتری جار ہی ہوں اللہ نے واقعی اس کا مقدر کھول دیا تھا اور اسے اپنے کیے کئے فیصلے پر ناز ہو رہا تھ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.