وفا کا تعلق مرد یا عورت سے نہیں اس کا تعلق طبیعت تربیت اور نیت سے ہے

وفا کا تعلق مرد یا عورت سے نہیں اس کا تعلق طبیعت تربیت اور نیت سے ہے اگر مجھے یا نہ بجھے لیکن ہمارا شمار آگ بجھانے والوں میں نہیں ہونا چاہیے نہ کہ آگ لگانے والوں میں مسلسل دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں تو عبدل ہو جاتے ہیں لیکن جب

آپ خود سے مقابلے پر آتے ہیں تو بہتر ہو جاتے ہیں مرد کے لئے اور ہمیشہ آپ سے ہوتی ہے ایک سے زیادہ اکشن یہ نہیں ہے وہ نہیں کوئی اور عورت اسی مرد کے لئے اپنا سب کچھ کرنے کو تیار ہوجاتی ہے جو اس آپشن سمجھتا ہے ہمارے معاشرے کے مرد جب کسی بھی میدان میں عورت کا مقابلہ نہیں کر پاتا تو وہ اس کے کردار پر انگلی اٹھا کر اسے توڑ دیتا ہے اور عورت صفائی دینے سے ہار مان لینا زیادہ بہتر سمجھتی ہے ایک عالم کی طاقت ایک لاکھ کلو سے زیادہ ہوتی ہے صبح

کی نیند انسان کے ارادوں کو کمزور کرتی ہے منزلوں کو حاصل کرنے والے لوگ کبھی دیر تک نہیں سویا کرتے تھے بعض اوقات ہمیں ان لوگوں کو بھی خوش رکھنا پڑتا ہے جو ہم پر چھپ کے وار کرتے ہیں اور سامنے سے ایسے پیش آتے ہیں جیسے ان سے بڑا ہمدرد ہمارا کوئی نہیں ہے آج کے دور میں تعلق کو دماغ سے نبھانے والے کامیاب ہیں دل والوں کے لیے فقط خواہش ہے کہ بعض اوقات ہم ان ہی لوگوں کے ہاتھوں اپنا مذاق بناتے ہیں جن کو ہم کمزور لمحوں میں اپنی ذات کی سچائیوں کو دیتے ہیں

جہاں صداقت و خلوص نظر آئے وہاں دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ ورنہ تمہاری تنہائی ہی تمھاری بہترین دوست ہے مرد کا امتحان لینا چاہتے ہو تو اسے عورت دے دو کیونکہ مرد کا امتحان عورت سے عورت کا امتحان پیسے سے ہوتا ہے یہ بھی تو ممکن ہے کہ تم جس سے محبت کرو وہ تمہاری فیلنگز حسن سے اور پھر یہ بھی تو ممکن ہے کہ کوئی تم سے محبت کرتا ہوں اور اس کی فلم اس کی خبر ہی نہ ہو زندگی کے تین اصول بنا لو اس سے ضرور معافی مانگو جسے تم چاہتے ہو اسے کبھی مت چھوڑو

جو تمہیں چاہتا ہوں اور اس سے کبھی کچھ نہ چھپاؤ جو تم پر اعتبار کرتا ہوں اپنے اخلاق اور کردار میں ایسی خوشبو کیا کریں جس سے محسوس کر کے لوگ آپ سے بات کرنے اور آپ کے پاس بیٹھنے کے خواہشمند ہوں دنیا کے سبھی لوگ خوبصورت ہیں بدصورتی ہمارے رویوں پر سوز میں ہے

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *