ایک عورت فحاشی اڈے پر لڑکیاں سپلائی کرتی تھی

ایک عورت انے کوٹھے پر لکھواد یاد یا اپنے جسم سے کمالو ” اور وہ عورت کو ٹھے پر خسین و جمیل لڑکیوں کو لے کر آتی اور اس کو ٹھے پر شہر کے وہ نوجوان جو اپنی نفسیاتی خواہش پوری کر نا چاہتے وہاں پر آ جاتے اور اب لڑکیوں کو کو اپنی باہوں میں لیتے اور ان کے جسم سے خوب لطف لیتے اور پھر ان کے ساتھ زنا کر کے بہت سارے پیے دے کر واپس چلے جاتے ۔ بسم فروشی کے

ساتھ زنا کر کے ارج کو بہت ساری رقم دے کر چلے جاتے ۔ سلسلہ کئی سالوں تک چلتارہا اس کو ٹھے پر بڑے بڑے امیر ررئیس اور شہرادے آتے اور اپنی ہوس پوری کر کے بہت سارے پیے لٹا کر چلے جاتے ۔ وہ عورت جو مہینوں میں کماتی تھی اب وہ دنوں میں کمانے گی ۔ لیکن وہ لڑکیاں اپنی مرضی سے اپنے جسم کو فروش نہیں کرتی ۔ ان میں سے کوئی غربت یا بھوک سے تنگ آکر کچھ لڑکیاں

بدلے میں جو پیسے ملتے وہ عورت اور وہ لڑکیاں آپس میں بانٹ لیتی ۔ جب اس عورت کا کار و بار چند دنوں میں بڑھنے لگا تو وہ بڑے بڑے شہروں میں جاتی اور خوبصورت اور حسین و جمیل لڑکیوں کو اپنے کو ٹھے پر لے آتی۔اور اس شہر کے نامور اور امیر اور رئیس لوگ اسے خوبصورت اور حسین حسین و جمیل لڑکیوں کے جسم سے لطف اٹھاتے اج کو اپنی باہوں میں لیتے اور پھر ان کے

اپنی دنیاوی خواہش پوری کرنے کے لیے اور کچھ لڑکیاں بہت مجبور ہو کر ہر آدی کو چند پوں کے لیے اپنے جسم کو اج کے حوالے کر دیں میں ۔ اور وہ درندے اج کے جسم کو نوچ کر چلے جاتے۔جب اس کار و بار کار کے بارے میں بہت زیادہ چر چاہواتو بڑے بڑے افسروں نے پولیس پر زور ڈالا کہ تم ان کو جا کر کچھ کہتے نہیں کیوں نہیں ۔ پہلے تو وہ پولیس والے رشوت لے کر چلے لیکن جب ان کے

سر سے پانی اوپر ہوا تو انھوں نے اس عورت کو کہا کہ آپ اب یا تو ہمیں اور خرچہ دویاتو تمھیں یہ دھندا بند کر ناپڑے گا۔اس عورت کے پاس بہت پیسہ جمع ہو چکا تھا اس نے اج کو بہت ساری رقم دی اور کہا اپنے اوپر والوں تک پہنچا دیں اور اوپر والوں کا منہ بند کر دیں۔ایک دن ایک بہت ہی خوبصورت اور حسین و جمیل لڑکی اس کو بھی کے دروازے پر آئے ۔ وہ عورت اس کو دیکھ کر بڑی

خوشی ہوئی یہ بھی کوئی اپنے جسم کو فروخت کرنے والی ہو گئی اور اس کا حسن دیکھ کر وہ تو پاگل ہی ہو گی ۔ اب وہ اسے اپنے کمرے میں لے آئیں اور اس کو سب کچھ بتانے کے بعد اس کو اپنے کمرے میں بٹھاد یا اور تھوڑی ہی دیر میں ایک بہت بڑا افسر اس کو ٹھے پر آیا تو وہ عورت اس لڑکی کے کمرے میں اس کو لے گئی ۔ لیکن وہ افسر تھوڑی ہی دیر دیر بعد ہوا افسر واپس چلا

گیا ۔ پھر دوسرے دن بھی ایسا ہوا کہ جو بھی کوئی نوجوارج آتا تھا تو بغیر کچھ کہے وہاں سے چلا جاتا ۔ اس عورت کا کارو بار بالکل ڈائج ہو رہا تھا ۔ پھر ایک مرد آیت اس لڑکی کے کمرے میں آیالیکن پھر وہ بھی چند لمحوں بعد ہی واپس چلا گیا ۔ اس عورت نے اس آدمی سے پوچھا کہ آج کیا بات ہے تم کچھ کیا بنائے جار ہے ہو تو اس آدی نے کہا اندر جا کر خود دیکھ لو تو عورت بہت

پریشان ہوئے اور جب وہ اس کمرے میں گئی تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی کیونکہ وہ لڑکی اندر عبادت کرنے میں مصروف تھی۔اس عورت نے پوچھا کیا لڑ کی تمہیں معلوم نہیں کیے یہاں کیا کام ہوتا ہے اور تم یہاں عبادت کرنے میں مشغول ہو گئی ہو تو اس لڑکی نے کہا جب میں اس کو ٹھے کے پاس سے گزر رہی تو اس کے دروازے پر لکھا تھا کہ اپنے جسم سے جو کچھ کمانا

چاہتے ہو کمالولو میرے پاس رہنے کے لئے جگہ نہیں تھی اس لئے میں اس کو ٹھے میں آگئی اور اللہ کی عبادت میں مصروف ہو گئی ۔ کیونکہ یہ جسم ہمارے پاس امانت ہے اور ہم جتنی عبادت کر ناچاہے کر سکتے ہیں میں اپنے جسم کو عارضی تکلیف دے کر اپنی جنت کمارہی ہو ۔ کیا آپ نے دروازے پر نہیں لکھا کہ اپنے جسم سے جو کچھ کمانا چاہتے ہو تو کما لو تو اس عورت نے

کہا ہاں تمھاری بات بالکل درست ہے میں نے یہ ضرور لکھا ہے لیکن میں نے اس کام کے لیے نہیں لکھا تو اس لڑکی نے اس عورت سے کہا جو کام تم اس دنیامیں کر رہی ہوں تو شاید تمیں جہنم میں بھی جگہ نہ ملے ۔ تم ان معصوم مجبور اور لاچار لڑکیوں پر نہیں لکھا کہ اپنے جسم سے جو کچھ کمانا چاہتے ہو تو کما لو تو اس عورت نے کہاہاں تمھاری بات بالکل درست ہے میں نے یہ ضرور

لکھا ہے لیکن میں نے اس کام کے لیے نہیں لکھا تو اس لڑکی نے اس عورت سے کہا جو کام تم اس دنیا میں کر رہی ہوں تو شاید تمہیں جہنم میں بھی جگہ نہ ملے ۔ تم ان معصوم مجبور اور لاچار لڑکیوں کو یہاں لے آتی ہوں ہو تو ان کے جسم کو امیر زادے نوچ کر چلے جاتے ہیںے قیامت کے درج تم سے ایک ایک لڑکی اپنے جسم کا حساب لے گئے اور قیامت کے درجے تمہیں اپنے جسم سے

کمانے کے لئے اور کچھ نہیں ملے گا یہ بات اس عورت کے دل کو جالگی ۔ پھر اس نے کہا تمہاری بات بالکل درست ہے پھر اس نے کہا کہ تم اپنے سے پوچھو کہ تم اتنے سالوں سے یہ کام کر رہی ہو کیاتمہیں کوئیے سکون ملا تو تو اس نے کہا ایا ایک بھی لمحہ بھی نہیں گزرا جس میں نے سکورج کا سانس لیا ہو ۔ پھر اس لڑکی نے کہا تمہارے کہنے کے مطابق کئے درندے اس کمرے میں

آئے اور یہاں سے چلے گئے لیکن میں اپنے رب کی یادوں میں اتنی محوتھی کہ مجھے اس بارے میں پتہ ہی نہیں چلا اور مجھے تم سے زیادہ بیو قوف اور دنیامیں لگتاہی نہیں کیونکہ تم اس دنیا کے لئے کمار ہی ہوں جس میں رہنے کے لئے ایک سیکنڈ کا بھی پانہیں میں تو اس دنیا کے کام کر رہی ہوں جس نے میں نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جانا ہے ۔ یہ سکے کر اس عورت اس وقت سجدے میں گر گئی اور اللہ تعالی سے گڑ گڑا کر معافے مانگنے گی

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *