عورت کو ا گر ہمبستری کے لیے راضی کر ناہو تواسکی ایک چیز کا ہاتھ لگاو

کفن بھی کیا چیز ہے جس نے بنایا اس نے بیچ دیا جس نے خرید اس نے استعمال ہی نہیں کیا اور جس نے استعال کیا اس سے معلوم ہی نہیں ۔

کاش کے لوگ مجھ سکتے کہ رشتے بنانا ے اصل بات نہیں بلکہ اصل بات تو رشتوں کو نبھانا ہو تا ہے ۔ کسی وجہ سے بھی گناہ مت کر و کیونکہ وجہ ختم ہو جانے کی مکر گناہ نہیں ہر نیکی کے لیے تکلیف اٹھالیا کرو کیونکہ تکلیف ختم ہو جائے گی لیکن یکی نہیں ۔

زمانے کا شکوہ نہ کرو بلکہ خود وبدلو کیوں کہ پاؤں کو گندگی سے بچانے کا طریقہ جو تا پہننا ہے نہ کہ سارے شہر میں کالین بچانا ۔

عورت کے روتے روتے اچانک مسکرا دینے کے منظر سے بڑھ کر حسین منظر اور کوئی نہیں جو ظلم کے ذریعے عزت چاہتا ہے اسے اللہ انصاف کے ذریعے ذلیل کر تا ہے ۔

دل چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہی ٹوٹا کر تا ہے بڑی بڑی باتوں پر توبس تعلق ٹوٹا کرتے ہیں بھی محبت اگر طوائف سے بھی ہو جائے تو یہ نہیں سوچتے کہ وہ کتنے بستروں کی زیت بن چکی ہے ۔

محبت کس طرح کی جاتی ہیں یہ صرف ورت ہی جاتی ہے اپنالو یا چھوڑ دو مگر کسی کو استعمال مت کرو د دو انسانوں کارشتہ ہمیشہ کسی تیسرے کی وجہ سے ختم ہو تا ہے

لوگ اس کانڈ کو تو سنبھال لیتے ہیں جس پر اللہ لکھا ہولیکن اس دل کو توڑ دیتے ہیں جس میں اللہ رہتا ہے

عمر بوجھ اٹھایا ایک کیل نے اور لوگ تعریف تصویر کی کرتے رہے ۔ بارات میں دولہا پیچو اور دنیا آکے چلتی ہے اور میت میں جنازہ آگے اور دنیا پیچھے پلتی ہے یعنی دنیا خوشی میں آگے اور غم میں پیچ پیچھے ہو جاتی ہیں ۔

سچائی بھارے معاشرے میں ایک طوائف کی طرح ہوتی ہے جس کے طلبگار تو سارے ہیں مکر طرف دار کوئی نہیں

عورت کو ہمبستری کے لیے راضی کر ناہو تو اسکی ایک چیز لینی چھاتی کو ہاتھ لکاو ۔ ! عورت خودیی رانی ہو جائے گی ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *