حکیم بطلیموس کے اقوال

حکیم بطلیموس کے اقوال

جاہل کےلیے سب سے بہتر بات خاموش رہنا ہے۔ ایک عالم سے ایک گھنٹے کی گفتگودس برس کے مطالعے سے زیادہ مفید ہوتی ہے۔ زندگی بغیر محنت کے مصیبت اور بغیر عقل کے حیوانیت ہے۔ کسی نے حکیم سے پوچھا کہ جھوٹ بولنے میں کیا نقصان ہے؟ اس نے کہا:

اس شخص کی سچ بات کا اعتبار بھی جاتا رہتا ہے۔ پھر پوچھا سچائی میں کیا فائدہ ہے؟ کہا: کہ جھوٹ کے شر سے محفوظ رہتا ہے۔ حکمت ایک ایسا درخت ہے۔ جو دل سے اگتا ہے ۔ اور زبان سے پھل دیتا ہے۔ سردرد کا علاج ، خوبصورت تاج سے نہیں ہوتا۔

انسانی زندگی دنیا میں اس شمع کی مانند ہے۔ جو ہوا میں رکھی گئی ہوں۔ دنیا کی مصیبتوں کا تیسرا حصہ زبان کا پیدا کردہ ہے۔ تم دیکھ کہ ہر موسم میں ملاح کشتیاں نہیں چلاتے۔ تم بھی ہر خیال کو عملی جامہ پہنانے کےلیے ہر وقت تیار نہ رہا کرو۔

کیونکہ صیحح وقت پر صیحح کام ہی فائدہ دیتا ہے۔ کمینے شخص سے حاجت طلب کرنا، خشکی پر مچھلی پکڑنے کے برابر ہے۔ میں نے صبر اور امن سے زیادہ لذیذ کسی شے کو نہیں پایا۔ جو شخص اپنی صحت کو تندرست رکھنا چاہتا ہے۔ اس کو عورتوں کے

قرب سے پرہیز کرنا چاہیے۔ تین آدمی میرے دوست ہیں۔ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے، وہ جو مجھ سے نف رت کرتا ہے، وہ جو مجھ سے کوئی واسطہ نہیں رکھتا۔ کیونکہ پہلا محبت کا سبق، دوسرا احتیاط کا اورتیسرا خود اعتباری سکھاتا ہے۔ ضروریات زندگی

کو کم کردینا سب سے بڑی مال داری ہے۔ طبیعت خراب ہونےسے انسان ہر وقت بے چین رہتا ہے۔ کل رات سے میرا بچہ بھی خلاف معمولی روئے جار ہا ، روئے جارہا ہے، رات جاگ کے گزاری ۔ میں نے اس کے ساتھ صبح کو میں نے غور کیا تو بچہ جب رو رہا تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.