کئی سال تک وزن کم کرنے کی ناکام کوشش کے بعد خاتون نے کون سے پانچ اصول اپنا کر ایک ہی سال میں 47 کلو وزن کم کر لیا

کئی سال تک وزن کم کرنے کی ناکام کوشش کے بعد خاتون نے کون سے پانچ اصول اپنا کر ایک ہی سال میں 47 کلو وزن کم کر لیا

زندگی تو سب ہی گزارتے ہیں مگر اس دنیا ميں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہ دوسروں کے لیے مثال بن جاتے ہیں- ایسی ہی ایک لڑکی کیا ٹیوسلمین بھی ہیں جن کا تعلق کیلی فورنیا سے ہے اور جس کے والدین کے موٹاپے کے باعث اس کو بھی موٹاپا ورثے میں ملا- بچپن کی گول مٹول سی کیا نے جب جوانی کی حدود میں قدم رکھا تو وہ ایک فربہہ لڑکی میں تبدیل ہو چکی تھیں اور کئی سالوں تک وزن کم کرنے کی کی جانے والی تمام کوششیں ناکامی سے دوچار ہو رہی تھیں-
ایک دفعہ جب کیا جہاز میں سفر کر رہی تھیں اور سیٹ بیلٹ کے باندھنے کے مرحلے میں کیا نے یہ محسوس کیا کہ ان کا وزن اب اتنا زیادہ ہو چکا ہے کہ وہ سیٹ بیلٹ بھی نہیں باندھ سکتی ہیں- یہ وقت ان کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب آئندہ زندگی کو کیسے گزارنا ہے اس کے لیے انہیں خود ہی جدوجہد کرنی ہو گی-
کیا کا اس موقع پر یہ کہنا تھا کہ وہ اس بات سے واقف تھیں کہ ان کو وزن کی اس زیادتی کے سبب ہائی بلڈ پریشر اور ذیابطیس کے مرض میں مبتلا ہونے کا شدید خطرہ بھی لاحق ہے کیوں کہ یہ دونوں بیماریاں ان کی خاندان میں موجود تھیں- اس کے علاوہ زندگی کے کئی محاذوں پر اپنے موٹاپے کے باعث وہ شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ کا بھی شکار رہی ہیں-
کیا کا اس موقع پر یہ کہنا تھا کہ اپنے موٹاپے کے باعث وہ اپنی پسند کا لباس نہیں پہن سکتی تھیں ان کے دوست بھی ان کے موٹاپے کے باعث ان کو نظر انداز کر دیتے تھے اور زںدگی کے بہت سارے معاملات میں وہ اس موٹاپے کے باعث پیچھے رہتی جا رہی تھیں-

کیا کا اس موقع پر یہ بھی کہنا تھا کہ زندگی میں کئی مواقع ایسے بھی آئے جب انہوں نے شدید محنت سے کچھ پاؤنڈ وزن کم بھی کر لیا- مگر اس کے بعد کچھ ہی دنوں میں ذرا سی بے احتیاطی کے سبب یہ وزن دوبارہ سے بڑھ جاتا اور اس سے اتنی مایوسی ہوتی کہ وہ ہمت چھوڑ کر بیٹھ جاتی تھیں-
مگر جہاز کے سفر کے بعد کیا نے یہ فیصلہ کیا کہ اب انہوں نے خود کو تبدیل کرنا ہے اور ایسا بننا ہے کہ جو دوسروں کے لیے ایک مثال بن جائے- اس فیصلے کے بعد کیا نے اپنی زندگی کو پانچ اصولوں کے مطابق تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا یہ اصول کچھ اس طرح تھے-

اس اصول کے مطابق کیا نے یہ اصول بنایا کہ وہ روزانہ ایک گھنٹہ جاگتیں اور یہ وقت ان کےاپنے لیے ہوتا- اس وقت میں وہ ورزش کرتیں اور ایمانداری سے اس پورے ایک گھنٹے میں وہ اس بات کی کوشش کرتیں کہ اپنے وزن کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں-
تیس منٹ تک لگاتار ایسی ورزش کرتیں جس سے نہ صرف ان کے جسم کے ہر ہر حصے کو حرکت دی جاتی بلکہ اس بات کا اہتمام کیا جاتا کہ جسم کو اس طرح کی ورزش میں مصروف کریں جس سے جسم تھک جائے اور اس سے پسینہ نکلے جو کہ جسم کے ان حصوں سے فاضل چربی کو پگھلانے میں معاون ثابت ہوتا ہے-
جو لوگ کھانے کے لیے زندہ رہتے ہیں وہ صحت کے سنگین مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں جن میں سے موٹاپا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے- اس لیے کیا نے کھانے کی وہ تمام اشیاﺀ کو چھوڑ دیا جو کہ اس کے لیے غیر صحت مند تھیں اور وزن میں اضافے کا باعث ہو سکتی تھیں- اس کے بجائے انہوں نے صرف اتنے کھانے پر اکتفا کیا جس سے زندہ رہا جا سکتا تھا- ان کے اس عمل نے ان کے وزن میں کمی میں اہم کردار ادا کیا-

کیا کا اس حوالے سے یہ کہنا تھا کہ انہوں نے یہ اصول بنایا کہ دن بھر میں بے تحاشا پانی پیا جائے- زیادہ پانی کا استعمال بھی جسم میں سے زہریلے مادوں کے اخراج کے ساتھ ساتھ جمی ہوئی چربی کو پگھلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے-
جسمانی صحت روحانی صحت کے بغیر ناممکن ہے اس لیے کیا نے اپنی زںدگی میں روحانی صحت کے لیے یہ اصول بنایا کہ ہر روز دس ایسی چیزوں کو ضرور قلم بند کرتی تھیں جن کے لیے وہ قدرت کی شکر گزار تھیں- اس سے ان کو روحانی سکون حاصل ہوتا اور ان کی زندگی اور سوچ میں مثبت تبدیلی واقع ہوتی اس عمل سے وزن کم کرنے کے مشکل سفر میں نہ صرف انہیں مدد ملتی بلکہ مایوسی ختم ہونے میں بھی مدد ملتی-
پچیس سالہ کیا اس تبدیلی کے بعد نہ صرف لوگوں کے لیے ایک مثال بن گئی ہیں بلکہ اب وہ لوگوں کو باقاعدہ وزن میں کمی کے لیے لیکچرز بھی دیتی ہیں- ان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ہمیشہ چھوٹے ٹارگٹ رکھیں اور ان کو حاصل کرنے کی کوشش کریں –

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.