والدین کے لیے جنت کی دعا

والدین کے لیے جنت کی دعا

جنت میں جانے والوں کی بنیادی طور پر چار اقسام بنتی ہیں:پہلی قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ احادیث میں ان کی تعداد ستر ہزار بتائی گئی ہے۔دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو حساب دینے کے بعد جنت میں داخل ہوں گے۔تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جنہیں جہنم میں داخل تو نہیں کیا جائے گا البتہ ایک وقت تک کے لیے جنت میں جانے سے روک دیا جائے گا۔ یہ اصحاب الاعراف ہیں۔ جن کا تذکرہ سورۃ الاعراف میں بالتفصیل موجود ہے۔چوتھی قسم ان اہل ایمان کی ہے جو گناہوں کی کثرت کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے اور بالآخر اپنے اعمال کی سزا بھگت کر اپنے ایمان کی وجہ سے جنت میں داخل کیے جائیں گے۔وہ ستر ہزار لوگ جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے وہ کن اوصاف کے حامل اہل ایمان ہوں گے۔ آئیے احادیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بیان کرتے ہیں:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ (خواب میں) مجھ پر امتیں پیش کی گئیں۔

بعض نبی گزرتے اور ان کے ساتھ (ان کی اتباع کرنے والا) صرف ایک آدمی ہوتا۔ بعض گزرتے اور ان کے ساتھ دو ہوتے بعض کے ساتھ پوری جماعت ہوتی اور بعض کے ساتھ کوئی بھی نہ ہوتا۔ پھر میں نے ایک بڑی جماعت دیکھی جس سے آسمان کا کنارہ ڈھک گیا تھا میں سمجھا کہ یہ میری ہی امت ہو گی لیکن مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت کے لوگ ہیں۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ادھر دیکھو، ادھر دیکھو، میں نے دیکھا کہ بہت سی جماعتیں ہیں جو تمام افق پر محیط تھیں۔ کہا گیا کہ یہ تمہاری امت ہے اور اس میں سے ستر ہزار لوگ وہ ہوں گے جو بغیر حساب کے جنت میں داخل کیے جائیں گے۔پھر صحابہ رضی اللہ عنھم مختلف جگہوں میں اٹھ کر چلے گئے اور نبی صلی اللہ نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے۔ صحابہ رضی اللہ عنھم نے آپس میں اس کے متعلق مذاکرہ کیا اور کہا کہ ہماری پیدائش شرک میں ہوئی تھی البتہ بعد میں ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے لیکن یہ ستر ہزار ہمارے بیٹے ہوں گے جو پیدائشی مسلمان ہیں۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا:(هم الذين لا يسترقون ولا يكتوون ولا يتطيرون وعلى ربهم يتوكلون)“یہ ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بدفالی نہیں کرتے، نہ منتر سے جھاڑ پھونک کراتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں

بلکہ اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔”یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ فرمایا: ہاں۔ ایک دوسرے صاحب (سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ) نے کھڑے ہو کر عرض کیا: میں بھی ان میں سے ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(سبقك بها عكاشة)(بخاری، الطب، من لم یرق، ح: 5762، ح: 3410)“عکاشہ تم سے بازی لے گئے۔ (تم سے پہلے عکاشہ کے لیے جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔)”ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:(يدخل الجنة من أمتي زمرة، هم سبعون ألفًا، تضيء وجوههم إضاءة القمر ليلة البدر)(مسلم، الایمان، الدلیل علی دخول طوائف من المسلمین الجنۃ بغیر حساب۔ ح: 216)“میری امت میں سے ستر ہزار کا ایک گروہ جنت میں داخل ہو گا جن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔”بن حصین بیان کرتے ہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(يدخل الجنة من أمتي سبعون ألفا بغير حساب)“میری امت کے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔”لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کیسے لوگ ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(هم الذين لا يسترقون ولا يكتوون ولا يتطيرون وعلى ربهم يتوكلون) (ایضا، ح: 218)“یہ وہ لوگ ہوں گے

جو دم نہیں کرواتے ہوں گے، بدشگونی نہیں لیتے ہوں گے اور نہ داغ لگواتے ہوں گے (یعنی دااغ لگوا کر علاج نہیں کرواتے ہوں گے) اور اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہوں گے۔”اورایک حدیث میں ہے:ستر ہزار لوگ (بغير حساب ولا عذاب) یعنی بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ (ایضا: ح: 220)مسند احمد (1/403) میں ہے:(هم الذين لا يسترقون ولا يكتوون ولا يتطيرون وعلى ربهم يتوكلون)ایک حدیث میں الفاط ہوں ہیں:هم الذين لا يسترقون ولا يكتوون ول يتطيرون وعلى ربهم يتوكلون) (مسند احمد، 1/454)مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ تین قسم کے اہل ایمان ہوں گے جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے جو کہ درج ذیل ہیں:1۔ بدشگونی نہ لینے والے2۔ داغ لگوا کر علاج نہ کروانے والے3۔ دم جھاڑ نہ کروانے والےالبتہ یہ اشکال ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے کہ علاج کروانا اور دم کروانا تو جائز ہے اور یہ امور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہیں! اس کے جواب میں کچھ وضاحت کی ضرورت ہے۔ جہاں تک بدشگونی کا تعلق ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:لا طيرة و خيرها الفال)“بدشگونی کی کوئی اصل نہیں

البتہ نیک فال لینا بہتر ہے۔ (کچھ برا نہیں ہے۔)”صحابہ نے عرض کیا نیک فال کیا چیز ہے؟ فرمایا:(الكلمة الصالحة يسمعها أحدكم) (بخاری، الطب، الطیرۃ، ح: 5754)“کوئی اچھی بات جو تم میں سےکوئیسنتاہے۔”مولانا محمد داؤد راز رحمۃ اللہ علیہ اس کی وضاحت میں فرماتے ہیں:مثلا بیمار آدمی سلامتی تندرستی کا سن پائے یا لڑائی پر جانے والا شخص راستے میں کسی ایسے شخص سے ملے جس کا نام فتح خاں ہو اُس سے فال نیک لی جا سکتی ہے کہ لڑائی میں فتح ہماری ہو گی۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔(ولا يكتوون) کے بارے میں شارحین کے مختلف اقوال ہیں۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح مسلم میں ان اقوال کو ذکر کیا ہے۔ بعض علماء نے كى (داغ لگا کر علاج کرنے) کو خاص کیا ہے۔ جن احادیث میں ستر ہزار اہل ایمان کا بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونے کا بیان ہے ان میں ہر علاج مراد نہیں بلکہ داغ لگا کر علاج کروانے کا تذکرہ ہے۔ داغ لگا کر علاج کروانا یہ آخری علاج تھا۔ عرب میں یہ علاج اکثر مروج رہاہے بالخصوص طاعون کی بیماری میں۔ جب کسی دوا وغیرہ سے افاقہ نہ ہوتا تو یہ علاج کرواتے تھے۔ ایک حدیث میں ہے:(الشفاء فى ثلاثة فى شرطة محجم او شربة عسل اوكية بنار وانهى امتى عن الكى) (بخاری، الطب، الشفاء فی ثلاث، ح: 5681) میں داخل ہوں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.