ایلوویرا کے حیران کن فائدے اورنقصانات

ایلو ویرا کا استعمال چہروں کی رعنائی اور چہرے کو تازہ کرنے کیلئے مختلف کاسمیٹکس میں استعمال ہوتا ہے ۔ ایلوویرا کی تاریخ چارہزار سا ل پرانی ہے ۔ پہلے زمانے کے لوگ اس کے فوائد سے آگاہ تھے۔ مصرکی ملکہ کلوپیترا اپنی صحت اور چہرے کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کی غرض سے ایلوویرا کا استعمال کرتی تھی۔ جلد کی خرابیوں میں بھی استعمال کرتی تھی ایلوویرا کی پانچ سے زائد اقسام ہیں۔

اس کا آبائی وطن امریکہ ہے یہ گرم علاقوں میں آسانی سے پایا جاسکتا ہے ۔ ایلو ویرا میں پانی بیس معدنیات بارہ وٹامن اور دو سو فوٹو نیوٹرنز ہیں ۔ ایلو ویرا جسم کومدافعتی نظام کو بہتر اور مضبوط بناتا ہے بیکٹیریا کو ختم کرتا ہے او ر سفید سیلز کو تیز کرتا ہے ۔ کینسر سے بچاتا او ر دل کو مضبوط بناتا ہے ۔ جوڑوں ،ٹشوزاو ر مسوڑوں کو مضبوط بناتا ہے ۔ اس کا استعمال ایڈز کےمریضوں میں قوت مدافعت پیدا کرتا ہے ۔

جلد اور بالوں کی خوبصورتی کیلئے صدیوں سے آزمودہ ہے۔ایلوویرا وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتا ہے ۔ا س میں وٹامن اے ،سی ،ای،بی1،بی2،بی3اوربی12پروٹین لپرڈز امائینو ایسڈ ،فولک ایسڈ، کیلشیم ،میگنیشیم ، سلینیم، سوڈیم ،آئرن پوٹاشیم کاپر اور میگنیز جیسے منرلز شامل ہوتے ہیں۔ یہ جسم کے ٹشوز کو بھی سکیڑ دیتا ہے اس سے خصوصی طور پر معمولی خراشوں خون کے بہاؤ کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے جسم کا کوئی حصہ جل جائے تو اس پر ایلوویرا لگانے سے جلن کم ہوجاتی ہے ۔

اس میں ایسے قدرتی اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ بیرونی سطح پر ایلوویرا کی جیل لگانے سے پٹھوں کا تناؤ ختم ہوتا ہے اکڑن کے باعث ہونے والے جوڑوں کے درد میں آرام ملتا ہے یہ جوڑوں کی لچک بہتر کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ایلوویرا قبض اور ڈائیریا دونوں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔ ایلو ویرا کا رس وزن کرنے میں اہم ثابت ہوتا ہے ۔چربی گھلانے میں مدد کرتا ہے ۔دوران حمل خواتین کے مخصوص ایام میں بواسیر یا جگر اور پتا کی بیماری ہے اس کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔شکریہ

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.