سعودیہ میں مقیم لاکھوں پاکستانی کتنے مشکل حالات سے گزر رہے ہیں

سعودیہ میں مقیم لاکھوں پاکستانی کتنے مشکل حالات سے گزر رہے ہیں،ایک پاکستانی نے گیت کے ذریعے حقیقت بیان کر دی

نوجوان نے پنجابی گیت میں بتایا ہے کہ یہاں پاکستانیوں سے گدھے کی طرح مشقت لی جاتی ہے، کفیل تنخواہ مانگنے پر ذلیل کرتے ہیں، سخت گرمی میں کام کر کے کھال جل جاتی ہے، بہتر ہو گا کہ ملازمت کے لیے سعودی عرب نہ ہی آئیں
ریاض ( ۔8 اکتوبر2020ء) سعودی عرب میں روزگار کی غرض سے 25 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں، کچھ لوگ بہت خوش باش طریقے سے زندگی گزار رہے ہیں، تاہم ایسے پاکستانیوں کی گنتی بھی لاکھوں میں ہے جنہیں یہاں بہت زیادہ محنت کرنے کے بدلے تھوڑے سے پیسے دیئے جاتے ہیں اور سعودی کفیل ان کے ساتھ جانوروں والا سلوک کرتے ہیں۔ سعودیہ میں مقیم ایک پاکستانی نے تارکین وطن کی مشکلات اور اذیت بھری زندگی کو ایک خوبصورت پنجابی گیت کی صورت میں گا کر بیان کیا ہے۔
پاکستانی نوجوان اپنے اس گیت میں کہتا ہے کہ سعودیہ میں کام نہ ملنے کی وجہ سے پاکستانی بہت پریشان ہیں۔ یہاں پر غریب پاکستانیوں سے اتنی سخت محنت کرائی جاتی ہے کہ اُن کی کھال اُتارنے والی بات ہی ہو جاتی ہے۔
یہاں آنے والے پاکستانی پھنسے پڑے ہیں اور انتہائی بدنصیبی کا شکار ہیں۔ یہ گلوکار اپنے پاکستانی بھائیوں سے مخاطب ہو کر مزید کہتا ہے کہ اگر تم لوگوں نے سعودیہ کا ویزہ لینا ہے تو یاد رکھو یہاں تم سے گدھے کی طرح سخت مشقت لی جائے گی۔
سخت گرمی تمہاری ہمت اور حوصلہ توڑ دے گی۔ سعودیہ میں مقیم جو پاکستانی اپنے گھر والوں کو فون کرتے ہیں تو آگے سے گھر والے اپنے رونے رو کر فرمائشوں کا انبار لگا کر زیادہ رقم بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ یہاں پر کفیل ہر وقت ”یلّا، یلّا“ کرتے ہیں اور تنخواہ مانگنے پر پاکستانیوں کو ذلیل کر کے رکھ دیتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.