جس کا نواز شریف برا منا گئے

اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کھولا گیا وہ راز جس کا نواز شریف برا منا گئے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے محمد زبیر کی آرمی چیف سے ملاقات کا راز کھولا،اس وقت مریم نواز اور نواز شریف کو احساس ہوا کہ ہمارے ساتھ زیادتی کی گئی،اس کے بعد نواز شریف نے علم بغاوت بلند کرنے کا فیصلہ کیا۔ سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا تجزیہ
لاہور ( 22 اکتوبر2020ء) سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل سابق وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے لیے ووٹ دیا تھا۔سوال یہ ہے کہ اب ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے فریقین کے درمیان معاملات اس قدر خراب ہو گئے۔اس حوالے سے صحافی نے لیگی رہنما محمد زبیر سے پوچھا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے انتخابات میں دھاندلی کرائی تو ن لیگ نے چند ماہ قبل ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے ووٹ کیوں دیا ؟جس کے جواب میں انہوں نے کیا کہ ہم سے غلطی ہوئی،ہمیں ووٹ نہیں دینا چاہئیے تھا۔

محمد زبیر نے مزید کہا کہ جو لوگ لندن گئے تھے میں ان میں شامل نہیں تھا۔اس لیے نہیں کہ سکتا ہے یہ فیصلہ کیوں کیا گیا۔رؤف کلاسرا نے مزید کہا کہ ووٹ دینے کے بعد ن لیگ کا اعتماد بڑھ گیا، جس کا اظہار ان کی پریس کانفرنس اور ٹاک شوز میں گفتگو سے ہوتا تھا۔اس سےیہ تاثر مل رہا تھا کہ کسی نہ کسی سطح پر ڈیل ہوئی ہے۔محمد زبیر نے آرمی چیف سے ہونے والی دو ملاقاتوں سے متعلق کہا کہ میں بھیگ مانگنے یا ریلیف مانگنے نہیں گیا تھا۔یہ ملاقاتیں تین چار گھنٹے پر محیط تھیں جن میں نواز شریف اور مریم نواز سے متعلق گفتگو ہوئی۔رؤف کلاسرا کے تجزیے کے مطابق محمد زبیر نے آرمی چیف سے ملاقات میں درخواست کی کہ وہ غیر جانبدار رہیں اور کسی ایک جماعت کے ساتھ خود کو منسلک کر دینا ادارے کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔جواب میں محمد زبیر کو اندازہ ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر مریم نواز کے متعلق سیریس تشویش پائی جاتی ہے۔
یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ جب محمد زبیر واپس آئے تو یہ پیغام لے کر آئے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ن لیگ کے تمام درازے بند کر رکھے ہیں۔اس کے بعد نواز شریف نے علم بغاوت بلند کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ صورتحال ذاتی لڑائی کی شکل اختیار کر گئی۔سینئر صحافی نے مزید کہا کہ جب میں نے اس معاملے کی کھوج لگانے کی کوشش کی تو امکانی طور پر یہ بات سامنے آئی کہ جب سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے محمد زبیر کی آرمی چیف سے ملاقات کا راز کھولا،اس وقت مریم نواز شریف اور نواز شریف کو احساس ہوا کہ ہمارے ساتھ زیادتی کی گئی۔
رؤف کلاسرا نے دعویٰ کیا کہ ممکن ہے آنے والے دنوں میں نواز شریف یہ اعتراف کریں کہ جنرل باجوہ کو ووٹ دے کر غلطی کی تھی،بظاہر اسٹیبشلمنٹ کے ساتھ نواز شریف اور مریم نواز کی اب کھلی لڑائی ہو گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.