شیخ سعدی کے یہ اقوال ضرور پڑھیں

اگر آپ اپنے بچوں کی مثالی پرورش کرنا چاہتے ہیں تو شیخ سعدی کے یہ اقوال ضرور پڑھیں
شیخ سعدی ؒ کا اصل نام مشرف الدین بن مصلح الدین عبداللہ تھا،آپ ایران کے شہر شیراز میں پیدا ہوئے ۔آپ کی پیدائش 1184میں جبکہ وفات1291میں ہوئی ۔آپ نے اپنی زندگی میں بہت سے ممالک کا سفر کیا اوراپنی زندگی میں بہت علم و دانش حاصل کرنے کیلئے سفر کیا۔آپ نے اپنی زندگی میں کئے گئے سفر کے دوران ان سے حاصلشد ہ مشاہدوں پر بہت سے کتابیں لکھیں جن میں سے گلستان سعدی اوربوستان سعدی بہت مشہور ہوئی۔

آپ نے زندگی کے مختلف پہلوؤں پر لوگوں کی رہنمائی کی ۔ بچوں کی تربیت کے حوالے سے آپ کیچند قول ایسے ہے جن سے بچوں کی بہترین تربیت کی جاسکتی ہے۔آپ نے کہا کہ جس بچے کی عمر دس سال سے زیادہ ہوجائے اسے نا محرموں اورایروں غیروں میں نہ بیٹھنے دو۔ اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا نام باقی رہے تو اولاد کو اچھے اخلاق کی تعلیم دے۔اگر تجھے بچے سے محبت ہے تو اس سے زیادہ لاڈ پیار نہ کر۔بچے کو استاد کا ادب سیکھاؤ اور استاد کی سختی سہنے کی عادت ڈالو۔بچے کی تمام ضروریات کو خود پورا کرواور اسے ایسے عمدہ طریقے سے رکھو کہ وہ دوسروں کی جانب نہ دیکھے۔ شروع شروع میں پڑھاتے وقت شاباش سے بچے کی حوصلہ افزائی اور تعریف کرو وہ جب اس طرف راغب ہوجائے اسے اچے اور برے کی تمیزسیکھاو اور ضرورت پڑے تو سختی بھی کرو۔ بچے کو دستکاری یعنی ہنر سیکھاو، اگر وہ ہنر مند ہوگا تو برے دنوں میں بھی کسی کے سامنے ہاتھ پگیلانے کی بجائے اپنے ہنر سے مدد لے گا۔بچوں پر کڑی نظر رکھو تا کہ وہ بْروں کی صحبت میں نہ بیٹھے، دوسری جانب ایک اسلامی واقعہ یہ بھی ہے کہ دارا شکوہ اور اورنگ زیب عالم گیر دونوں بھائی تھے۔ ان کی آپس میں اقتدار کی کشمکش تھی، ان دونوں میں سے ہر ایک کی خواہش تھی
کہ تخت و تاج مجھے ملے، داراشکوہ چاہتا تھا کہ میرا حق بنتاہے لہٰذا بادشاہ مجھے بننا چاہیےجب کہ اورنگ زیب عالم گیر مشائخ کی صحبت پا چکے تھے، اس لیے چاہتے تھے کہ اگر مجھے سلطنت کا انتظام مل جائے توبدعات کا خاتمہ کرکے شریعت و سنت کی بالادستی قائم کر دوں گا۔داراشکوہ کو کسی نے بتایا کہفلاں جگہ پر ایک مستجاب الدعوات بزرگ رہتے ہیں۔ ان میں سے دعا کروائیں۔ جب وہ وہاں گئے تو اس بزرگ نے کھڑے ہو کر مصافحہ کیا اور بیٹھنے کے لیے اپنا مصلیٰ پیش کیا۔ داراشکوہ نے از راہ ادب کہا،نہیں جی میں اس قابل کہاں کہ اس جگہ بیٹھ سکوں۔ اگر انہوں نے بزرگوں کی صحبت پائی ہوتی تو سمجھتے کہ الامر فوق الادب کہ حکم کا درجہ ادب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس بزرگ نے پھر فرمایا کہ یہاں بیٹھجائو۔ مگر اس نے دوسری مرتبہ پھر کہا، حضرت! میں اس قابل کہاں؟ انہوں نے تیسری مرتبہ اصرار کیا کہ بیٹھئے لیکن کہنے لگا، جی نہیں۔ آپ ہی بیٹھئے۔ جب وہ بیٹھ گئے تو داراشکوہ بھی ان کے سامنے بیٹھا۔ ان کی آپس میں بات چیت ہوتی رہی۔ پھر جب اٹھنے لگا تو کہا، حضرت! دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے تخت و تاج عطا فرما دیں۔ بزرگ فرمانے لگے کہ ہم نے مصلیٰ تو پیش کیا تھا، آپ خود ہی نہیں بیٹھے تو کیا کریں؟ اب تو وقت گزر چکا ہے۔ اسے بہت زیادہ افسوس ہوا۔ اب اس نے سوچا کہ کہیں اورنگ زیب عالم گیرؒ کو پتہ نہ چل جائے لہٰذا اس نے اس بات کو چھپائے رکھا، فلاں جگہ پر ایک مستجاب الدعوات بزرگ رہتے ہیں۔ آپ ان کے پاس جائیں۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.