خوشیوں کو ہمیشہ کیلئے خوش آمدید

پریشانیوں کو ہمیشہ کیلئے الوداع اور خوشیوں کو ہمیشہ کیلئے خوش آمدید!
حالات کا دباؤ، زندگی کے بہاؤ کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ الجھنیں اور پریشانیاں ہیں کہ بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ کسی کو فکر معاش نے پریشان کر رکھا ہے تو کوئی قسمت سے نالاں نظر آتا ہے۔ کہیں خاندانی جھگڑے ہیں توکوئی گھریلو مشکلات کا شکار ہے۔

کوئی اولاد کی نافرمانیوں کا مارا ہوا ہے تو کوئی اخلاقی گراوٹ کے ہاتھوں پریشان ہے۔ کسی کو اپنوں کی بے وفائی کا غم ہے تو کوئی غیروں کی بے اعتنائی سے دل شکستہ ہے۔ خیالات اور حالات کا دباؤ انسانوں کی زندگی کو چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بے نیاز کرتا جارہا ہے۔ ہماری زندگی میں جتنی زیادہ شکایتیں بڑھتی جاتی ہیں، خوشی کا مادہ اتنا ہی کم ہوتا جا رہا ہے۔ ان حالات میں ہم ایک لمحے کےلیے بھی رک کر غور نہیں کرتے کہ ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہم سے زیادہ دور نہیں، کہیں ہمارے ارد گرد ہی موجود ہے، ہمیشہ اس یقین کے ساتھ زندگی گزارئیے کہ آپ کے اردگرد بے شمار خوشیاں آپ کے انتظار میں ہیں اور وہ بہت جلد آپ تک پہنچے والی ہیں۔ آپ کا کام صرف ان کی کھوج لگانا اور انہیں اپنی طرف کشش کرنا ہے۔ حوصلہ مند اور باشعور لوگ اسی ذہنی رویّے کے ساتھ مشکل سے مشکل حالات سے بھی چھوٹی چھوٹی اور انمول خوشیوں کے ساتھ اپنا تعلق ہمیشہ استوار کیے رکھتے ہیں۔ دراصل یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی ہیں جو بڑی بڑی خوشیوں کے حصول کو ممکن بناتی ہیں۔ آپ اگر خوشی رہنا چاہتے ہیں تو اپنی ان خوشیوں پر کام کیجیے، اپنے خالق کے ساتھ اپنی تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کرتے رہیے۔ اس سے بڑی خوشی اور کیا ہوسکتی ہے کہ اللہ کبھی اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسائل، مشکلیں، آزمائشیں اور الجھنیں انسانی زندگی کا
حصہ ہیں؛ اور ان سے چھٹکارا پانے یا نجات حاصل کرنے کا سب سے بہترین راستہ ہے اللہ تعالی کی عبادت اور اس کی بندگی، قرب الہی کو حاصل کرنے اور اس کی بارگارہ میں اپنا دست سوال دراز کرنے کا بہترین ذریعہ ہے نماز۔ اس بے نیاز کے سامنے جھولی پھیلائیے جو دینے پر آئے تو فقیر کو بھی بادشاہ بنا دینے پر قادر ہے۔ اس پاک ذات کے سامنے اپنی تکلیفوں پریشانیوں کا تذکرہ کیجیے جو کسی کو اس کی ہمت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ بے شک اس کی بارگاہ میں پیش ہو کر دل کا بوجھ ہلکا کرنے والے ہر غم اور تکلیف سے بے نیاز کردئیے جاتے ہیں، خود شناسی اور باطنی شعور، اندورنی اور بیرونی خوشی کے حصول کا اہم ذریعہ ہیں۔ اپنی پہچان کا احساس اور باطنی شعور ہمیں حقیقی خوشی کی لذتوں سے سرشار کرتا ہے۔ ہم اپنا سارا وقت، اپنی ساری توانائی صرف اور صرف ظاہری اور مادی خوشیوں کو حاصل کرنے کی دوڑ دھوپ میں خرچ کردیتے ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے اور زندگی کا طویل سے طویل سفر بھی کٹ جاتا ہے۔ لیکن افسوس اس سارے عمل کے دوران ہم اپنے آپ اور اپنی ذات سے انجان اور حقیقت بے خبر رہتے ہیں۔ اپنی شخصیت کی نشوونما کے امکانات پر کام کرنے والے اور اپنی ذات کا عرفان حاصل کرنے کی جدوجہد کرنے والے حقیقی خوشیوں کی دوڑ میں بہت آگے نکل جاتے ہیں، خود شناسی کا عمل آپ کےلیے خوشی کے حصول کو آسان بناسکتا ہے، اسے کبھی بھی نظر انداز نہ کیجیے۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.