تعلیمی اداروں میں کورونا کے بڑھتے کیسز کا معاملہ

تعلیمی اداروں میں کورونا کے بڑھتے کیسز کا معاملہ، صوبائی وزراء تعلیم کا اجلاس 5 نومبر کو طلب
اجلاس میں تعلیمی ادروں میں کورونا کیسز کا جائزہ لیا جائے گا، سردیوں کی چھٹیوں سے متعلق فیصلہ متوقع

اسلام آباد (03نومبر2020ء) تعلیمی اداروں میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر صوبائی وزراء تعلیم کا اجلاس 5 نومبر کو طلب کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کورونا کیسز میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔تعلیمی اداروں میں بھی طلباء اور اساتذہ کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔سی ای او ایجوکیشن کے مطابق ننکانہ صاحب میں گورنمنٹ گورونانک کالج کی 6 طالبات کورونا کا شکار ہوئی ہیں۔
کورونا کیسز کی تصدیق کے بعد کالج کو 7 روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز، کالج کی 100 طالبات کے سیمپلز لیے گئے ہیں۔علی حیدر ڈوگر، گرلز ایم سی ہائی اسکول کی 5 طالبات بھی کورونا کا شکار ہوئی جس کے بعد اسکول کو 5 روز کے لیے سیل کر دیا گیا ہے۔تعلیمی اداروں میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر اہم فیصلوں کا امکان ہے۔صوبائی وزراء تعلیم کا اجلاس 5 نومبر کو طلب کر لیا گیا ہے۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اجلاس کی صدارت کریں گے۔چاروں صوبوں ، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے وزرائے تعلیم ویڈیو لنک سے اجلاس میں شریک ہوں گے۔اجلاس میں تعلیمی ادروں میں کورونا کیسز کا جائزہ لیا جائے گا۔اجلاس میں تعلیمی اداروں میں سردیوں کی چھٹیوں سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔اجلاس میں اپریل سے اگست تک کے تعلیمی سال پر گفتگو ہو گی۔
اجلاس میں آٹھویں کلاس کے بورڈ امتحانات سے متعلق فیصلہ ہو گا۔قبل ازیں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے سوشل میڈیا پر سکول بند کرنے کی اطلاعات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کورونا کے حوالے سے کوئی ایسی رپورٹ نہیں ملی کہ سکولوں کو بند کردیا جائے۔ ٹوئٹر پر بیان میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ ہم صورتحال کو مکمل طور پر مانیٹر کررہے ہیں،طلباء ،اساتذہ اور سٹاف کی صحت کا بھی مکمل جائزہ لیا جارہا ہے۔صوبہ بھر میں مرحلہ وار کورونا ٹیسٹ بھی کروائے جارہے ہیں ابھی تک کوئی ایسی رپورٹ نہیں آئی جس کی وجہ سے سکولوں کو بند کردیا جائے۔ سکولز بند کرنے کے حوالے سے حکومتی سطح پر بھی ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.