والدین کا دل جیتنے والے کام

والدین کا دل جیتنے والے کام
جن کے والدین زندہ ہیں وہ دنیا کے خوشنصیب ترین انسان ہیں. ماں اور باپ کے رشتے ایسے ہیں کہ جن کا دنیا میں کوئی بدل نہیں. یہ رشتے بس ایک ہی بار ملتے ہیں اور پھر ریت پہ کھینچی لکیروں کی طرح تیز ہواؤں کی نظر ہوجاتے ہیں. وقت بہت تیزی کے

ساتھ گزر رہا ہے. یہ کل ہی کی تو بات ہے کہ ہم چھوٹے بچے تھے، ہمارے والدین ہماری کل کائنات تھے. ہم ان کے ساتھ گپ شپ کیا کرتے تھے، گھومنے پھرنے جایا کرتے تھے ان سے اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات اور مطالبے منوایا کرتے تھے. آہ! اب وہ ہم میں نہیں رہے. وہ باپ جو میری ذرا سی تکلیف پر بے چین ہو جایا کرتا تھا، دوڑا دوڑا ڈاکٹر کے پاس جاتا تھا، اب کہیں دور چلا گیا ہے. وہ ماں جو مجھے مٹی میں مجھے مٹی میں کھیلنے سے منع کرتی تھی، آج خود مٹی کی چادر تانے سو رہی ہے. اب بس ان کی یادیں ہیں، ایک دھندھلی سی تصویر ہے. جن کے والدین حیات ہیں انہیں چاہیے کہ اپنے ماں باپ کی خوب خدمت کریں، ان کے دل جیتنے کی کوشش کریں. کیوں کہ ماں باپ کی ایک دعا ہی انسان کی دنیا و آخرت سنوارنے کے لیے کافی ہے. اب ذیل میں وہ دس باتیں بتائی جا رہی ہیں جن سے کوئی انسان اپنے ماں باپ کا دل جیت سکتا ہے. 1. والدین کو وقت دیں. آج کے دؤر میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کی دلچسپی کے لیے بہت سی چیزیں ایجاد ہو گئی ہیں. ویڈیو گیمز، کمپیوٹر، ٹی وی، سوشل میڈیا اور دوستوں کا ایک وسیع حلقہ انہیں اس قابل ہی نہیں چھوڑتا کہ وہ اپنے والدین کے پاس چند ساعتیں گزار سکیں. مگر یاد رکھیں کہ آپ چاہے کتنے ہی بڑے ہوجائیں، اپنے والدین کی نظر میں وہی دو تین سالہ بچے کی مانند ہیں.
جو اپنے جگر گوشے کو ہر دم اپنے قریب دیکھنا چاہتے ہیں. آپ کی باقی تمام خدمات سے بڑھ کر جو چیز آپ کے والدین کے لیے نہایت قیمتی ہے وہ آپ کا ان کے پاس بیٹھنا ہے. کوشش کریں کہ یہ بیٹھنا خانہ پوری اور جبر والا نہ ہو بلکہ ایسا ہو جیسے دو انتہائی محبت کرنے والے دوست آپس میں بیٹھ کر گپ شپ کیا کرتے ہیں، ایک دوسرے کا حالِ دل سنا کرتے ہیں، ایک دوسرے کی گفتگو سے لطف اندوز ہوا کرتے ہیں. جو ایک دوسرے کی صحبت سے اتنے لطف اندوز ہوتے ہوں کہ ایک دوسرے سے جدا ہونے کو دل ہی نہ کرتا ہو. پھر وہ خوشخبری تو آپ نے سنی ہی ہوگی کہ والدین کے چہروں پر پڑنے والی آپ کی محبت بھری نگاہ، ایک مقبول حج اور عمرے کے ثواب کے برابر ہے. کیا یہ سودا برا ہے؟ 2. ان کو مرکزی حیثیت دیں. جب والدین بوڑھے ہو جائیں تو انہیں کسی کونے میں چارپائی پر ڈال کر عضوئے معطل بنا کر نہ رکھ دیں بلکہ ان کو ہر معاملہ میں مرکزی حیثیت دیں. ٹھیک ہے آپ جوان ہو گئے ہیں، تمام ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں. آپ کی شادی بھی ہو گئی ہے. مگر اس کے باوجود ہر ہر معاملہ میں والدین کو محسوس کروائیں کہ آپ ان کے مشورے کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے. کام آپ نے ہی کرنا ہے اور اسی طرح کرنا ہے جس طرح آپ چاہتے ہیں مگر جب والدین سے پہلے مشورہ کر لیں گے تو وہ بہت خوشی

 

Sharing is caring!

Comments are closed.