روایتی طریقے سے مبارکباد دینے پر پابندی

شادی تقریبات میں دلہا دلہن، گھروالوں کو روایتی طریقے سے مبارکباد دینے پر پابندی عائد
ولیمے میں مہمانوں کیلئے فوڈ باکس کا استعمال کرنا ہوگا، بوفے دینے کی اجازت نہیں ہوگی، ماسک پہننا اور مہمانوں کی اسکریننک لازمی ہوگی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا ہدایت نامہ

اسلام آباد (08 نومبر2020ء) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے کورونا وباء کا پھیلاؤ روکنے کیلئے شادی کی تقریبات میں دلہا دلہن اور ان کے گھر والوں پر روایتی طریقے سے مبارکبادیں وصول کرنے پر پابندی عائد کردی ہے، بوفے دینے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ کھانے کیلئے لنچ باکس اور ٹیبل سروس فراہم کی جاسکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق این سی او سی نے ملک بھر میں شادی کی تقاریب کے انعقاد کے حوالے سے ضابطہ کار جاری کیا ہے۔
جس کے تحت شادی کی تقریب بند کمرے یا ہال کے بجائے کھلی فضا میں ہوں گی۔ شادی کی تقریب کے لیے جگہ کا انتخاب لوکل ہیلتھ اتھارٹی کی مشاورت سے ہو گا۔ تقریب میں قالین یا غالیچوں کا استعمال نہیں ہوگا۔ شادی کی تقریب زیادہ سے زیادہ ایک ہزار مہمان شرکت کر سکیں گے اور ان کے مابین 6 فٹ کا فاصلہ ہوگا، دلہا، دلہن اور ان کے گھر والے روایتی طریقے سے مبارکبادیں وصول نہیں کریں گے۔شادی تقریبات کے مہمانوں کی یومیہ بنیاد پر اسکریننگ کرنا ہوگی، تقریب میں کاغذ والا تولیہ اور جراثیم کش ادویات کا استعمال ہوگا، تقریب سے قبل کیمرہ، موبائل فون ، گاڑیاں اور دیگر استعمال کی تمام چیزیں ڈس انفیکٹ کرانا ہوں۔ تقریب میں ہاتھ دھونے کے لیے صابن اور سینیٹائزر کا انتظام لازمی ہوگا۔ ضابطہ کار کے تحت شادی کی تقریب میں شریک ہر فرد کا بخار چیک کرنا لازم ہوگا، شادی تقریب کا میزبان کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کا ذمہ دار ہوگا اور شادی میں شریک ہر مہمان کو ماسک، سینیٹائزر میزبان فراہم کرے گا، ہر مہمان کے لئے ماسک پہننا لازم ہوگا۔شادی کی تقریب میں کھانے کے حوالے سے ضابطہ کار میں کہا گیا ہے کہ تقریب میں بوفے کی اجازت نہیں ہوگی، لنچ باکس اور ٹیبل سروس فراہم کی جاسکتی ہے۔ میزبان ولیمے کی تقریب میں مہمانوں کے لئے فوڈ باکس کا استعمال کریں۔ تقریب کا دورانیہ دو گھنٹے ہوگا اور رات 10 بجے تک تقریب ختم کرنا ہو گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.