اتوار کے باعث جگہ سنسان تھی

کراچی، 2 لڑکے اور 2 لڑکیاں گاڑی میں مشکو-ک حرکتیں کرتے پکڑے گئے
چاروں سٹوڈنٹس آئی بی اے مین کیمپس کے اندر گاڑی میں موجود تھے، اتوار کے باعث جگہ سنسان تھی، گاڑی پر شیڈ لگا کر مشکو-ک حرکتیں کر رہے تھے

کراچی ( 09نومبر2020ء) کراچی کی یونیورسٹی کے 4 طلبا و طالبات مشکو-ک حرکتیں کرتے پکڑے گئے جن میں دو لڑکے جب کہ دو لڑکیاں شامل تھیں۔تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی کے اندر قائم آئی بی اے مین کیمپس کے 4 طلبہ اتوار کے روز گاڑی میں مشکو-ک حرکتیں کرتے پکڑے گئے۔سیکیورٹی گارڈز نے گاڑی کے اندر مشکو-ک حرکتیں کرنے والے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ چاروں طلبہ کو گاڑی سمیت کیمپس آفس منتقل کر دیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ کار میں دو لڑکے اور دو لڑکیاں خلائی علوم کے شعبہ میں گاڑی کے اندر موجود تھے۔اتوار کے باعث جگہ بھی سنسان تھی جب کہ گاڑی پر شیڈ لگا کر مشکو-ک حرکتیں کر رہے تھے کہ سیکیورٹی گارڈز نے پکڑ لیا۔کیمپس سیکورٹی مشیر ڈاکٹر معیز کا کہنا ہے کہ آئی بی اے کے چاروں طلبہ کے بیانات ریکارڑ کر لیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر معیز کا کہنا تھا کہ پیرو کو آئی بی اے کو واقعے سے متعلق خط لکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آئی بی اے کو تحقیقات کرنا ہوں گی کہ چھٹی کے دن سنسان جگہ پر طالب علم کیوں موجود تھے۔دوسری جانب خاتون ملازم کے ساتھ نازیبا حرکات اور انہیں ہراساں کرنے والے بینک منیجر کو حراست میں لے لیا گیا۔ اسلام آباد پولیس نے نجی بینک کے منیجر کو ساتھی خاتون ملازم کو ہراساں کرنے کے الزام میں حراست میں لیا ۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے اس حوالے سے بتایا کہ مذکورہ شخص کو حراست میں لینے کے ساتھ ساتھ نوکری سے بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک قواعد کے مطابق یہ ملزم کسی اور بینک میں ملازمت بھی نہیں کر سکے گا۔خیال رہے کہ بینک منیجر کی ساتھی خاتون ملازم کے ساتھ نازیبا حرکات کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی جانب سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا تھا کہ شہادتیں موجود ہیں، اس شخص کے خلاف فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔شیریں مزاری نے کہا تھا کہ اگر ہم خواتین اوربچوں سے بدسلوکی روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.