پاکستانیوں کو بے انتہا فائدہ ہو گا

سعودیہ میں نئے قانون ملازمت سے پاکستانیوں کو بے انتہا فائدہ ہو گا
غیر ملکی ملازم مُدت پوری ہونے پر ملازمت بدل سکے گا، مُدت سے قبل بھی نوکری تبدیلی کا اختیار ہو گا

جدہ(9 نومبر2020ء) سعودی حکومت کی جانب سے مملکت میں کفالت کا کئی دہائیوں پُرانا نظام ختم کر کے نیا قانونِ ملازمت لانے کا اعلان کیا گیا ہے ،جس کے باعث کفیل کی اپنے غیر ملکی ملازم پر اجارہ داری بہت کم ہو جائے گی اور ملازمین کو نئی ملازمتوں کے انتخاب اور وطن واپسی میں بھی بہت سی رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔سعودی وزرت محنت و سماجی بہبود کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ملازمت کے نئے نظام کے تحت غیر ملکی کارکنان کا اپنا کفیل تبدیل کرا کے دوسرے کفیل کے پاس ملازمت کا اختیار ہو گا۔ نئے نظام سے لاکھوں پاکستانی ملازمین کو بہت فائدہ ہو گا۔ اُردو نیوز کے مطابق نئے نظامِ ملازمت میں نجی اداروں کے غیر ملکی کارکنان کو اداروں کی تبدیلی میں آزادی حاصل ہوگی۔خروج وعودہ اور فائنل ایگزٹ کے سلسلے میں با اختیار ہو جائیں گے۔ملازمت کی تبدیلی کی سہولت کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی عیر ملکی کارکن کی ملازمت کا معاہدہ مکمل ہوجائے گا تو ایسی صورت میں غیر ملکی کارکن اپنے سابق آجر کی منظوری کے بغیر کسی اور ادارے میں ملازمت کر سکے گا۔ایک ادارے سے دوسرے ادارے میں منتقلی کا طریقہ کار متعین کیا جائے گا مثلا سابق آجر کو اطلاع دینا وغیرہ۔ملازمت کے معاہدے کی معیاد ختم ہونے سے قبل بھی غیر ملکی کسی کے ہاں ملازمت کر سکتا ہے۔ غیر ملکی ملازم کو اس کا اختیار ہے تاہم اسے نوے دن قبل اسے اپنے ارادے سے آگاہ کرنا ہوگا اور اگر ملازمت کے معاہدے میں قانون محنت کے دائرے میں کوئی پابند ی تحریر ہوگی تو اس کا احترام کرنا ہوگا کیونکہ کسی شق کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں مقرر جرمانے کا متحمل ہوگا۔
غیر ملکی معاہدے کی میعاد مکمل کرنے پر ملازمت تبدیل کرسکتا ہے۔ ایسی صورت میں اس پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔اگر ملازمت کا پہلا معاہدہ مکمل کرکے دوسرا یا تیسرا معاہدہ شروع ہو گیا ہو کیا ایسی صورت میں غیر ملکی کارکن ملازمت تبدیل کرسکیگا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ غیرملکی ملازمت تبدیل کرسکتا ہے بشرطیکہ نئی ملازمت کی شرائط پوری کر رہا ہو اور نیا آجر رضا مند ہو۔نئے ادارے میں ملازمت کی کارروائی کے طریقہ کار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نیا ادارہ وزارت افرادی قوت کے ماتحت قوی پلیٹ فارم کے ذریعے ملازمت کی تبدیلی کی درخواست کرے گا۔ متعلقہ ادارے کا خط غیر ملکی کارکن کو بھیجا جائے گا۔ اس کا جواب وہ دے گا پھر باقی کارروائی پلیٹ فارم کے ذریعے ہوگی۔آخر میں تمام فریقوں کواس سے مطلع کردیا جائے گا۔اس سوال پر کہ معاہدہ ختم کرنے پر پیلنٹی کی شرط آجر پر لاگو ہو گی یا اجیر پر وزارت کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق ملازمت کے مصدقہ معاہدے میں مذکور شرط سے ہوگا جو فریق وہی ملازمت کا معاہدے ختم کرے گا اور اس پر پنیلٹی پر آئے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.