شادی ہالز میں تقریبات پر پابندی کا فیصلہ

شادی ہالز میں تقریبات پر پابندی کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج
ہال کے اندر شادی پرپابندی کے نوٹی فکیشن کا کوئی قانونی جوازنہیں ، نوٹی فکیشن آئین کے آرٹیکل 4 ، 18 اور آرٹیکل 25 کے منافی ہے ، اس لیے عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ عدالت ہال میں شادی پرپابندی کے نوٹی فکیشن کو کالعد-م قرار دیا جائے ، اسلام آباد مارکی ایسوسی ایشن کی درخواست میں موقف

اسلام آباد (11 نومبر 2020ء) ہالز کے اندر شادی کی تقریبات پر پابندی کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس میں اضافے کی وجہ سے ہالزمیں شادی پرپابندی کاحکم نامہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کی گئی ہے ، اس سلسلے میں اسلام آباد مارکی ایسوسی ایشن کی جانب سے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ، جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ کوروناکے بڑھنے کا جواز بناکر20 نومبر سے شادی ہال پر پابندی لگائی گئی ہے ، ہال کے اندر شادی پرپابندی کے نوٹی فکیشن کا کوئی قانونی جوازنہیں ہے ، اس لیے 6 نومبر کا نوٹی فکیشن بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ، انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ نوٹی فکیشن آئین کے آرٹیکل 4 ، 18 اور آرٹیکل 25 کے منافی ہے ، اس لیے عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ عدالت ہال میں شادی پرپابندی کے نوٹی فکیشن کو کالعد-م قرار دے۔دوسری طرف کورونا کی دوسری لہر میں پاکستان میں عالمی وباء کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے پنجاب حکومت نے شادی ہالز میں تقریبات کا وقت 2 گھنٹے تک محدود کرنے اور شادی میں شرکت کے لیے آنے والے مہمانوں کو پیکٹوں میں بند کھانا دینے کی سفارش کردی۔ تفصیلات کے مطابق کورونا وباء سے شہریوں کو بچانے کے لیے حکومت پنجاب نے سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کرلیا ، اس سلسلے میں صوبائی حکومت پنجاب کی طرف سے شادی ہالز میں ہونے والی تقریبات کا وقت 2 گھنٹوں تک محدود کرنے اور پیکٹوں میں بند کھانا دینے کی سفارش کی گئی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ شادی کی ہر تقریب میں ضروری ہوگا اس تقریب کا میزبان گھرانا ماسک پہننے کی پابندی پر لازمی عمل درآمد کروائے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.