سعودی عرب میں مقیم پاکستانی خبردار ہو جائیں

سعودی عرب میں مقیم پاکستانی خبردار ہو جائیں
اگر کوئی پودا یا درخت کاٹایا شاخیں اور پتے بھی الگ کیے تو 10 سال قید ہوگی، تین کروڑ سعودی ریال جرمانہ بھی عائد ہو گا

جدہ(12 نومبر2020ء ) سعودی عرب میں مقیم پاکستانی ہوشیار ہو جائیں۔ سعودی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اگر کسی بھی مقامی یا غیر ملکی نے کوئی پودا یا درخت کاٹا ، یا ان کے پتے اور شاخیں بھی علیحدہ کیے تو اس منفی حرکت میں ملوث فرد کو کڑی سزا اور بہت بھاری جرمانے کا سامنا کرنا ہو گا۔ العربیہ نیوز کے مطابق سرکاری استغاثہ نے کسی درخت یا پودے کو کاٹنے والے فرد کو کڑی سزائیں سنانے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کسی بھی فرد پر 7999018 ڈالر(تین کروڑ سعودی ریال) جرمانہ عاید کیا جائے گا۔ اس کو10 سال تک قید کی سزا سنائی جائے گی یا یہ دونوں سزائیں بیک وقت بھی سنائی جاسکتی ہیں۔اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر سعودی پراسیکیوشن نے لکھا ہے کہ درختوں کی کٹائی،جڑی بوٹیوں یا پودوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے، انھیں ان کے تنے ،پتوں ، شاخوں یا کسی بھی حصے سے محروم کرنے یا ان کی مٹی کی تبدیلی کے ذمے دار افراد کو مملکت کے ماحولیاتی قانون کے تحت کڑی سزائیں سنائی جائیں گی۔درخت کاٹنے والوں کے لیے ان کڑی سزاوٴں کا اعلان سعودی عرب کے ویژن 2030ء کے مطابق کیا گیا ہے جس کا مقصد اگلے عشرے کے اختتام تک مملکت میں ماحولیاتی استحکام لانا ہے۔ گذشتہ ماہ سعودی وزیر برائے ماحول، آب اور زراعت عبدالرحمان الفاضلی نے نئی شجرکاری مہم کے آغاز کااعلان کیا تھا۔اس مہم کے تحت اپریل 2021ء تک مملکت میں بنجرپن پر قابو پانے کے لیے ایک کروڑ درخت لگائے جائیں گے۔یہ مہم 10 اکتوبر سے 30 اگست 2021ء تک جاری رہے گی۔ یہ مہم سرکاری اور نجی شعبے کے اشتراک سے چلا جارہی ہے۔اس کا مقصد بنجرپن کے اثرات کو کم کرنا،قدرتی حیات کی نشوونما اور معیارِزندگی کو بہتر بنانا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.