ممالک کی جانب سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، عمران خان
پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، کئی قریبی تعلقات والے ممالک کی جانب سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے لیکن جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا پاکستان اس بارے میں نہیں سوچ سکتا، وزیراعظم کا نجی ٹی وی کو انٹرویو

اسلام آباد (13 نومبر 2020ء) وزیراعظم عمران خان نے انکشاف کیا ہے کہ انتہائی قریبی تعلقات والے ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے ۔ نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور ان کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے، لیکن پاکستان کبھی بھی یہودی ریاست کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک کہ مسئلہ فلسطین حل نہ ہو جائے ۔اینکر پرسن نے عمران خان سے سوال کیا کہ یہ کونسے ممالک ہیں؟ تو عمران خان نے کہا کہ اس سوال کو رہنے دیں، یہ باتیں بتانے والی نہیں ہیں، ہمارے ان ممالک کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں ۔ ہماری معیشت ابھی قدموں پر کھڑی ہونے کی کوشش کر رہی ہے ، لیکن اس کے باوجود میری اسرائیل کے معاملے پر کوئی دوسری رائے نہیں ہے ۔اسرائیل کے ساتھ معاملات اسی صورت میں ٹھیک ہو سکتے ہیں جس سے فلسطینی خوش ہوں ۔نجی ٹی وی انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کیخلاف معلومات ہیں، یہ ملک سے غداری میں ملوث ہیں لیکن عدالت کے اندر آپ کیس تب تک نہیں لے جا سکتے جب تک آپ کے پاس وہ ثبوت نہ ہوں جن کو عدالت مانتی ہے۔ کیونکہ ایجنسیز کی رپورٹ پر آپ عدالت نہیں جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص جو نام لے لے کر پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی چیف کو نشانہ بنا رہا ہے، کیا یہ ہندوستان کی زبان نہیں بول رہا؟ کیا ہندوستان ہمارا خیر خواہ ہے؟ کیا ہمیں نظر نہیں آ رہا کہ پوری دنیا میں سازش ہے کہ کوئی مسلمان طاقتور ملک چل نہ سکے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.