کیا جوتے پر جوتا آنا یا جوتا الٹا ہونے

کیا جوتے پر جوتا آنا یا جوتا الٹا ہونے میں‌ نحوست ہے؟ جانیے
جوتے پر جوتا آنا یا جوتے کا الٹا ہونا آداب کے خلاف ہے اور کوئی بھی نفاست پسند انسان اس طرح پڑے جوتے کو دیکھنا اچھا نہیں سمجھتا۔ اسی طرح ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنا آدابِ مجلس کے خلاف ہے اور خاص طور پر بڑوں کے سامنے اس انداز

سے بیٹھنا بدتہذیبی خیال کیا جاتا ہے۔ یہ امور تہذیب و شائستگی کے خلاف ہیں لیکن ان کو نحوست قرار دینا یا ان سے بدشگونی لینا درست نہیں۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے: بدشگونی لینا کیسا ہے؟نظر بد لگنا برحق ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا روحانی علاج بھی تفویض کیا ہوا ہے۔ اس لیے مرچیں جلانے یا انڈہ پھینکنے کی بجائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل پیرا ہونا چاہیے‘ اسی میں ہماری فلاح ہے۔ نظر بد کے متعلق مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے: نظرِ بد کی حقیقت کیا ہے؟ واضح رہے مسجد عبادت و ذکرالٰہی کا مقام ہے۔ اسے نجاست و گندگی سے پاک و صاف رکھنا ضروری ہے۔ جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری ج 5 ص 321 میں ہے: ان ینزھہ عن النجاسات۔ ترجمہ: مسجد کو نجاستوں سے پاک رکھنا چاہئے۔ مسجد جب ایک مرتبہ نماز پڑھنے کے لئے خاص کردی گئی ہو اسکا ادب و احترام ہر حال میں ضروری ہے۔خواہ مسجد کی قدیم عمارت شہید کردی گئی ہو یا باقی ہو، یا مکمل ہوچکی ہو۔ دوران تعمیر مسجد کا حصہ ہی رہتا ہے اس کے تقدس واحترام میں قدرے فرق نہیں آتا اس لئے ہر صورت میں چپل یا جوتا پہن کر مسجد میں آنا مکروہ ہے ۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری ،کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلۃمیں ہے:ودخول المسجد متنعلا مکروہ ،کذافی السراجیۃ۔ لہذا مسجد کے جس مقام پر تعمیری سامان موجود ہے وہاں جوتے چپل پہن کر آنا شرعا درست نہیں

 

Sharing is caring!

Comments are closed.