مخلوقات کو بہت محبت سے بنایا ہے

کیاایک طرفہ محبت ذہنی اذیت کا باعث ہے؟ موجودہ نوجوان نسل کس طرح اپنے آپ کو عشق مجازی کی زنجیروں میں جھکڑتی جا رہی ہے؟ پیروں سے زمین نکال دینے والی تحریر, اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو اور اس میں موجود مخلوقات کو بہت محبت سے بنایا ہے اور اپنی تمام مخلوقات کو اس جذبے سے سرشار کیا ہے۔ محبت ایک خوب صورت جذبہ ہے جو کہ ایک آئیڈیل معاشرے اور انسانی زندگی کی تشکیل میں اہم کردار کرتاہے ۔محبت ایک احساس

کا نام ہے جو کہ انسان کسی کے لیے بھی اپنے دل میں محسوس کرتا ہے ۔بعض اوقات انسان ایسی بھی محبت کرتا ہے جو کسی ایک خاص فرد کے لیے ہوتی ہے جو کہ دو طرفہ بھی ہوتی ہے اور یک طرفہ بھی۔ یک طرفہ محبت ایک سیراب ہے جس میں انسان لاحاصل کی تمنا کر بیٹھتا ہے اور اپنی شخصیت کو کھو دیتا ہے ۔آج کل کے معاشرے میں جہاں انٹر نیٹ نے دنیا کوگلوبل ویلج بنا دیا ہے وہاں پر سوشل میڈیا کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے اور لڑکے اور لڑکیوں میں وقت سے پہلے شعور آگیا ہے جس کی وجہ سے وہ محبت کے جذبے کو سمجھے بغیر یک طرفہ محبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس کے ان کی ذہنی کیفیت اور شخصیت پر بعض اوقات منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔یک طرفہ محبت اس وقت زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے جب ان کا تعلق کسی بھی شعبے میں کامیاب انسان سے ہو جیسا کہ شوبزنس ،سوشل میڈیا یا پھرکوئی پروفیسر یا استاد۔ زندگی کے مختلف شعبہ زندگی کے کامیاب افراد جیسا کہ شوبز سے تعلق رکھنے افراد سے لوگ بہت محبت کا اظہار کرتے ہیں ان میں سے کچھ افراد چاہے وہ لڑکا ہو یالڑکی محبت میں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ وہ ان سے ملنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں،ان کو کال کرتے ہیں،پیغامات بھیجتے ہیں،حتیٰ کہ شادی کرنے کا بھی کہتے ہیں۔اسی طرح بعض اوقات استادسے بھی ان کے طالب علم خاص طور پرلڑکیاں بہت جلد متاثر ہوجاتی ہیں ،استاد کے شفیق رویے کو مختلف انداز میں دیکھتی ہیں،ان کے خیال کرنے والے رویے کو محبت سمجھ لیتی ہیں۔ ا پنے خیالاتی تصور میں ان کے ساتھ زندگی گزارنے کا پلان بنا لیتی ہیں اورجب اس کا اظہار کرتی ہیں تو توقع کرتی ہیں کہ ان کے جذبات کو قبول کیا جائے گالیکن ایسا ہو نہیں پاتا کیوں کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہر کامیاب انسان کی کامیابی میں جذباتی ذہانت کا بہت عمل دخل ہوتا ہے اس کو معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح کے حالات میں کون سا طرز عمل اختیار کرنا ہے اور اس نے اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ کس طرح پیش آنا ہے؟کون سے الفاظ کا استعمال کس طرح اور کیسے کرنا ہے؟جب ان کو ایسے افراد سے ڈیل کرنا ہوتا ہے تو مناسب طریقہ اختیار کرتے ہوئے انکار کردیتے ہیں لیکن جب وہ ایسا کرتے ہیں توجو افراد محبت کا دعوی کرتے ہیں وہ مختلف ردعمل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ کچھ لڑکے اور لڑکیاں اداسی اور ڈیپریشن میں مبتلا ہوجاتے ہیں،خود ترسی کا شکار ہو جاتے ہیں،وہ شکوہ کرتے ہیں کہ ان کی محبت کی قدر نہیں کی گئی۔ جب کہ بعض افراد انکار کو اپنی توہین سمجھتے ہوئے شدید غصے اور نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور الزام تراشی ، بد دعاؤ ں اور دھمکیوں پر اتر آتے ہیں ۔ ان رویوں کی اگر وجوہات پر غور کریں تو پتا چلے گا کہ زیادہ تر لڑکے اور لڑکیاں کے گھر کا ماحول سخت ہو گا ،ماں باپ اور بچوں میں بات چیت کم ہو گی ،لڑکے اور لڑکیوں کو توجہ نہیں ملتی تو وہ عدم تحفط کا شکار ہو جاتے ہیں، وہ بعض اوقات توجہ حاصل کرنے کے لیے اس طرح کے رویے اختیار کر لیتے ہیں اورذہنی اذیت میں نہ صرف خود مبتلا ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی ذہنی اذیت کا باعث بنتے ہیں۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.