گھر گھر جا کر کہنا شروع کیا

ایمانول میکرون نے گھٹنے ٹیک دیے،فرانس اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ ہار گیا، غلط فہمی کے نام پرسیکولرزم کا چورن بیچنے والے فرانس کو منہ کی کھانا پڑی

فرانس (اُ18 نومبر 2020ء) ایمانوول میکرون نے اخبار نویسوں اور مسلمانوں کو گھر گھر جا کر کہنا شروع کیا ہے کہ سیکولرازم کے نام پر ان کا بیانیہ قبول کیا جائے اور ان کے خلاف جاری مہم کو روک دیا جائے۔فرانسیسی حکومت نے سرتوڑ کوشش کررکھی ہے کہ ان کے بیانیہ کے مطابق یہ تسلیم کر لیا جائے کہ جو کچھ بھی اب تک ہوا ہے وہ ایک سراسر غلط فہمی کے نتیجے میں ہوا ہے۔فرانسیسی صدر ایمانول میکرون نے یہ بات تسلیم کی کہ اسلام مخالف اور اسلا-موفو-بیا سے متعلق چورن بیچنے اور مسلمانوں کے خلاف نسل پر-ستانہ معاملوں کو ہوا دینے سے فرانس کو نہ صرف ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ شدید نقصان بھی اٹھانا پڑا۔میکرون اور اس کے ساتھیوں کو یہ بات بھی تسلیم کرنا پڑی کہ جب تک حکومتی سطح پر نسل پرستانہ معاملات کی بات نہیں کی گئی تب تک شہروں میں مارکیٹس میں بس اڈوں پر اور سفر کرتے ہوئے اور عوامی اجتماعات کی جگہوں پر کہیں بھی اس معاملے کو ذرا بھی ہوا نہیں ملی تھی۔عوام نے اب میکرون کے نعروں اور باتوں کو” تقسیم کرنے والا“ کہنا شروع کر دیا ہے کہ اس کے بیانات کے بعد ہی فرانسیسی کمیونٹی میں تقسیم پڑنا شروع ہوئی کیونکہ اس سے قبل معاشرے میں ایسی کوئی تقسیم نہیں تھی۔یاد رہے کہ دو ہفتے قبل فرانس میں اسلا-موفو-بیا کو لے کر جس قسم کی گھٹ-یا حرکتیں کی گئیں اس پر دنیا بھر کی مسلم آبادی نے شدید ردعمل دیاتھااور فرانس کا بائیکاٹ بھی کر دیا گیا۔آغاز میں تو فرانسیسی صدر میکرون اپنی پالیسی پر ٹکے رہے اور اسلام مخا-لف بیانیے میں شدت اختیار کرتے چلے گئے مگر آہستہ آہستہ انہیں یہ محسوس ہو گیا کہ اسلام کے مخالف بیانیے کو جیت نصیب نہیں ہو سکتی لہٰذا اب اس نے مفاہمتی پالیسی پر عمل کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے اور مسلمانوں کے پا س جا کر کہہ رہا ہے کہ سیکولرازم کی پالیسی کو اپنا لیا جائے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.