عالمی سیاست میں پاکستان کی مکمل حمایت چاہتا

‘یو اے ای عالمی سیاست میں پاکستان کی مکمل حمایت چاہتا ہے’

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان کی خلیجی ریاستوں سے تعلقات میں پہلے جیسی گرم جوشی نہیں ہے ۔ جو کہ 2018 میں وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے قیام کے وقت دیکھنے میں آئی تھی۔
دو طرفہ تعلقات میں تناؤ اس وقت پیدا ہوا جب وزیرِ اعظم عمران خان نے گزشتہ سال ملائیشیا میں ہونے والی ‘کوالالمپور اسلامک سمٹ’ میں شرکت کی حامی بھری۔ تاہم سعودی عرب کے براہِ راست تحفظات کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی مسئلہ کشمیر پر او آئی سی کے کردار پر تحفظات کا اظہار کیا تو پہلے سے سرد مہری کے شکار تعلقات میں مزید تناؤ دکھائی دینے لگا۔خیال رہے کہ یو اے ای کو سعودی عرب کے اہم اتحادی کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور امارات کے کسی سفارتی اقدام کو ریاض کی ناراضگی یا حمایت سے تشبیہ دی جاتی ہے۔پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ جلیل عباس کہتے ہیں کہ کرونا وائرس کے باعث عالمی سطح پر معاشی سرگرمیوں میں سست روی آئی ہے اور اس کے باعث اگر پاکستانی ورکرز کو خلیجی ممالک میں کچھ مشکلات درپیش آتی ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں لیا جانا چاہیے کہ باہمی تعلقات میں تناؤ ہے۔وائس آف امریکہ سے گفتگو میں جلیل عباس کا کہنا تھا کہ یو اے ای کی ویزہ پابندیوں کا اخبارات کی حد تک علم ہے تاہم دونوں ممالک کے تعلقات بہت گہری نوعیت کے ہیں۔جلیل عباس جیلانی کہتے ہیں کہ پاکستان کے عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ تعلقات کی نوعیت اہم ہے جو کہ سیاسی و دفاعی معاہدوں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر مشترکہ سفارت کاری کی حد تک ہیں۔تجزیہ کار حسن عسکری کہتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب کی طرح عالمی سیاست یا خلیج میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان چوں کہ ان کی پالیسیوں میں مکمل طور پر ساتھ نہیں چل رہا اس وجہ سے تنبیہ کی جا رہی ہے۔وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اگر پابندیوں کے ممالک کی فہرست کو دیکھا جائے تو زیادہ تر وہ ممالک شامل ہیں جو امارات کے خلیج میں سیاسی کردار میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ ہیں یا اس کی پالیسی کے حامی نہیں ہیں۔حسن عسکری کہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ سعودی عرب اور امارات کی ناراضگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام آباد نے قطر سے اپنے تعلقات کو بہتر کیا ہے۔مشرق وسطیٰ کے امور پر وزیرِ اعظم پاکستان کے معاون خصوصی علامہ طاہر محمود اشرفی کہتے ہیں کہ کرونا وائرس کے باعث ویزہ پابندی کو یو اے ای کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری کے طور پر پیش کرنا بھارتی بیانیہ ہے۔وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں پر ویزہ پابندی امارات کا سیاسی فیصلہ نہیں ہے بلکہ یہ مسائل کرونا وائرس کے باعث پیدا ہوئے ہیں جنہیں وزارت خارجہ کی سطح پر بات چیت سے حل کیا جارہا ہے۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات حالیہ برسوں میں سب سے بہترین ہیں جس کی مثال یو اے ای کے ولی عہد محمد بن زید کا گزشتہ سال دو مرتبہ پاکستان کا دورہ کرنا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.