نتین یاہو کے دورہ سعودی عرب

سعودی عرب کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا رسمی اعلان ہونا باقی ہے،کامران خان کا نتین یاہو کے دورہ سعودی عرب پر تبصرہ

مسلم برادر ممالک کی جانب سے ہمارے لیے ایک پیغام ہے کہ اقوام کے مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، پاکستان کو بھی اسرائیل کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہو گی ۔سینئر صحافی کا ٹویٹ
اسلام آباد (23 نومبر2020ء ) اسرائیلی میڈیا نے آج دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ کے ہمراہ اتوار کے روزسعودی عرب کا خفیہ دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو بھی موجود تھے۔اسرائیلی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کسی بھی اسرائیلی وزیر اعظم کا پہلا دورہ تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے بحیرہ احمر کے نیوم جزیرے پر محمد بن سلمان نے پانچ گھنٹے تک ملاقات کی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ موساد کے چیف یوسی کوہن بھی موجود تھے۔اسرائیلی وزیر اعظم اور موساد چیف کے سعودی عرب کے دورے سے متعلق اسرائیل یا امریکی اور سعودی حکومت کی جانب سے کوئی تصدیقی بیان سامنے نہیں آیا۔یہ خبر سامنے آنے کے بعد سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات سے متعلق ایک بار پھر قیاس آرائیں شروع ہو گئی ہیں۔اسی حوالے سے سینیئر صحافی کامران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اس دورے کو تاریخی خبر قرار دیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم ناتین یاہو نے کل سعودی عرب کا دورہ کیا اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات ہوئی. امریکی وزیر خارجہ پومپیو بھی موجود تھے.۔انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا رسمی اعلان ہونا باقی ہے۔ایک اور ٹویٹ میں کامران خان کا کہنا تھا کہ دنیا کے مسلم ممالک کی جانب سے پاکستان کے لیے ایک پیغام ہے کہ ’ پاکستان کو بھی اسرائیل کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہو گی ‘۔انہوں نے مزید کہا کہ اقوام کے مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے بلکہ مستقل صرف مفادات ہوتے ہیں۔پاکستان اپنے اختیارات کو استعمال کرنے میں کیوں شرمندہ ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.