نئے امریکی صدر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن بنائیں گے

حکومت نے عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے جوبائیڈن سے امید لگا لی

نئے امریکی صدر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن بنائیں گے،حکومت عافیہ صدیقی کی واپسی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کا بیان
اسلام آباد (23 نومبر 2020ء) مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان سے عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی کی ملاقات ہوئی۔ملاقات میں عافیہ صدیقی سے متعلق اب تک کی پیش رفت پر گفتگو ہوئی ہے۔انہوں نے فوزیہ صدیقی سے ملاقات میں کہا کہ حکومت عافیہ صدیقی کی واپسی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔نئے امریکی صدر سے امید ہے وہ عافیہ صدیقی کہ رہائی ممکن بنائیں گے۔بابر اعوان کا کہنا تھا کہ حکومت عافیہ صدیقی کی واپسی کے لیے سنجدی اقدامات کر رہی ہے۔ایوان بالا میں وزارت خارجہ نے عافیہ کے لیے کوششوں سے 5 ہزار پاکستانی قیدی واپس لائے گئے ہیں۔بابر اعوان کا کہنا تھا کہ حکومت عافیہ صدیقی کی واپسی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ایوان بالا میں وزارت خارجہ نے عافیہ کے لیے کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔انسانی ہمدردی اور خاتون ہونے کے ناطے یہ جائزہ رکھا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے مسائل کا حل پی ٹی آئی حکومت ترجیح ہے۔فوزیہ صدیقی نے عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے وزیراعظم اورن بابر اعوان کی کوشش پر اطمینان کا اظہار کیا۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور اور نامور قانون دان سینیٹر بابر اعوان نے سینٹ کو بتایا تھا کہ عافیہ صدیقی اور ایمل کانسی کو امریکا کے حوالے کرنے والوں کیخلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ عافیہ صدیقی کی گھر والوں سے ٹیلی فون پر بات نہیں کرائی جا رہی۔ سینیٹر مشاق احمد کے سوال پر جواب دیتے ہوئے سینیٹر بابر اعوان نے ایوان کو بتایا کہ پہلے ڈاکٹر عافیہ صدیقی رحم کی اپیل دائر کرنے پر تحفظات کر رہی تھیں لیکن اب انہوں نے رحم کی اپیل پر دستخط کر دیے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.