دُبئی میں ایک سال سے ملازمت کے لیے دربدر

”بہت سی کمپنیاں ہمیں پاکستانی ہونے کی وجہ سے نوکریاں نہیں دیتیں“

دُبئی میں ایک سال سے ملازمت کے لیے دربدر پھرنے والابے روزگار پاکستانی انجینئر دُکھی ہو گیا
دُبئی(23 نومبر2020ء) متحدہ عرب امارات میں 16 لاکھ سے زائد پاکستانی آباد ہیں ۔ امارات میں ہر سال لاکھوں پاکستانی روزگار کی تلاش میں جاتے ہیں تاہم چند ہی ایسے خوش نصیب ہوتے ہیں جو پُرکشش تنخواہ والی نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ بہت سے پاکستانیوں کو ان کی تعلیمی قابلیت اور تجربے کے مطابق مناسب نوکری نہیں مل پاتی، جس کے باعث وہ کم تنخواہ والی نوکریاں کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ اماراتی لیڈر شپ کی جانب سے تمام ممالک کے باشندوں کے ساتھ یکساں برابری کا سلوک کیا جاتا ہے۔ امارات میں اگر ملازمتوں کے اشتہارات میں کوئی امتیازی سلوک نظر آئے تو متعلقہ کمپنیوں اور ان کے مالکان کو قید اور جرمانوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ پھر بھی کچھ کمپنیوں میں خاص ممالک کے باشندوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ اماراتی اخبار دی نیشنل کے مطابق ایسا صرف پاکستانیوں کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ دیگر کئی ممالک کے باشندوں کو بھی یہی شکایات رہتی ہیں۔دُبئی میں گزشتہ ایک سال سے ملازمت کی تلاش کے لیے مارا مارا پھرنے والا بے روزگار پاکستانی انجینئر فیصل گُل بہت رنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔ فیصل کا کہنا ہے کہ وہ ایک سال تک امارات میں رہنے کے باوجود کوئی مناسب نوکری حاصل نہیں کر سکا۔ حالانکہ اس نے پاکستان میں الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری شاندار نمبروں میں حاصل کی اور وہیں پر دو سال ملازمت کا تجربہ بھی حاصل کیا۔ وہ بہتر کیریئر کی تلاش میں دُبئی آیا تھا، مگر ابھی تک اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ فیصل نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر اسے مستقبل میں نوکری مل بھی گئی تو اسے اتنی عہدے تنخواہ شاید نہ دی جائے ، جتنی اسی عہدے پر کام کرنے والے دیگر ممالک کے ملازمین کو دی جا رہی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.