امارات میں مقیم لاکھوں پاکستانی

شارجہ میں مقیم پاکستانی بزرگ نے انسانیت کی خدمت کی نئی مثال قائم کر دی

64 سالہ محمد داؤد ہزاروں افراد میں پانی، جائے نماز، ماسک، ہینڈ سینیٹائزر اور خوراک تقسیم کر چکے ہیں
شارجہ(23 نومبر2020ء ) متحدہ عرب امارات میں مقیم لاکھوں پاکستانی جہاں باعزت روزگار کما رہے ہیں وہاں نیکی اور رفاہی کاموں میں بھی پیش پیش ہونے کے باعث بہت نیک نامی اور احترام کما رہے ہیں۔خصوصاً کورونا کی وبا کے دوران معاشی حالات بگڑنے کے باعث جب لاکھوں افراد پر مشکلات کا وقت آیا تو درجنوں پاکستانیوں نے بلاتخصیص مذہب، قومیت و نسل پریشان افراد کی بڑے پیمانے پر مالی امداد کی ۔شارجہ میں مقیم ایک پاکستانی بزرگ محمد داؤد نے بھی رفاہی کاموں کے ذریعے انسانیت کی بے پناہ خدمت کر ڈالی ہے۔ شارجہ کے مونتاظہ روڈ کے ساحلی علاقے کے ایک ولا میں مقیم 64 سالہ محمد داؤ ہزاروں افراد میں پانی کی بوتلیں، ڈسپوزایبل جائے نماز، ماسک ، ہینڈ سینیٹائزراور خوراک تقسیم کر کے لوگوں کے دل جیت چُکے ہیں۔محمد داؤد اپنی رہائش گاہ کے باہر ہر ویک اینڈ پر شام 5 بجے فوڈ ٹرالی سمیت باہر آ جاتے ہیں۔اس موقع پر ان کی بیوی اور دو جوان بیٹے بھی ساتھ ہوتے ہیں۔ سارا پاکستانی گھرانہ مل کر ساحل سمندر سے گزرنے والے افراد میں خوراک اور ماسک، سینیٹائرز وغیرہ تقسیم کرتے ہیں۔ محمد داؤد نے بتایا کہ وہ پہلے سعودی عرب میں ملازمت کرتے رہے، پھر 20 سال قبل امارات میں سیلز مینجر کی ملازمت کی۔ وہ پچھلے تین برس سے اپنے گھر کے باہر سے گزرنے والے افراد میں مختلف اشیاء تقسیم کرتے رہے ہیں۔تاہم کورونا کی وبا کے بعد ان کی جانب سے رفاہی کاموں میں تیزی آ گئی ہے۔ پہلے ان کی رہائش گاہ کے باہر لوگوں کا زیادہ رش نہیں ہوتا تھا اور اکثر اشیاء بچ جاتی تھیں۔ تاہم اب یہ ساحلی علاقہ ڈویلپ ہونے کے بعد یہاں پر موسم خوشگوار ہونے پر ہزاروں افراد تفریح کے لیے اُمڈ آتے ہیں۔ یہاں پر حکومت کی جانب سے تین کلومیٹر کے جاگنگ اور سائیکلنگ ٹریک بھی موجود ہیں۔اس کے علاوہ بہترین نشستیں اور کیاریاں بھی لوگوں کا دل موہ لینے کے لئی بنا دی گئی ہیں۔ جس کے بعد اب لوگوں کی بڑی تعداد یہاں آنے لگی ہے۔ اس موقع پر لوگوں میں فیس ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر کی بوتلیں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ اور بچوں میں بسکٹس، کینڈیز اور چاکلیٹس بانٹتے ہیں۔ اس نیکی کے کام میں ان کی بیوی اور بیٹے حمزہ اور سمیر بھی ساتھ دیتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.