متحدہ عرب امارات میں پاکستانی کمیونٹی

متحدہ عرب امارات میں پاکستانی کمیونٹی شدید ذہنی اذیت کا شکار

پاکستانی وزارت خارجہ اور پاکستانی قونصلیٹ و ایمبیسی نے تمام معاملات پر خاموشی سادھ لی، سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم، لاکھوں پاکستانی مستقبل کے حوالے سے بے یقینی محسوس کرنے لگے
دُبئی(24 نومبر2020ء ) متحدہ عرب امارات میں 16 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں جو لیبر سے لے کر مینجنگ ڈائریکٹرز کے اہم ترین عہدوں پر ذمہ داریاں نبھارہے ہیں۔ خصوصاً ٹرانسپورٹ اور فوڈ و آئٹمز ڈلیوری میں پاکستانیوں کی اچھی خاصی اجارہ داری ہے۔ اسکے علاوہ امارات میں پاکستانی سرمایاکاروں اور کاروباری افراد کی بھی کمی نہیں ہے، جو چھوٹے کاروباری طبقہ سے لیکر اربوں درہم کے کاروباروں تک مشتمل ہے۔ یہ پاکستانی سالانہ اربوں ڈالرز کا زر مبادلہ پاکستان بھیج کر ملک کی ڈانواں ڈول معیشت کو بہت بڑا سہارا دے رہے ہیں۔ اس لحاظ یہ پاکستان کے لیے ایک محسن اور مددگار کی بھی حیثیت رکھتے ہیں تاہم گزشتہ کچھ روز سے امارات میں مقیم لاکھوں پاکستانی بہت زیادہ بے چینی اور بے یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔کئی ایسے پاکستانی بھی ہیں جو گزشتہ تیس پینتیس سالوں سے امارات میں مقیم ہیں۔پاکستانی کمیونٹی کی حد درجہ پریشانی کی وجہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبریں اور پوسٹیں ہیں ، اس کے علاوہ کچھ پاکستانی اینکرز کے غیر ذمہ دارانہ بیانات ہیں جو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاکستان کا جھکاؤ تُرکی اور ایران کی جانب ہونے سے سعودیہ اوریو اے ای پاکستانی حکومت سے سخت ناراض ہیں۔ اس طرح کی گمراہ کن باتوں کی وجہ سے امارات میں سوشل میڈیا پر ایسی افواہوں اور غلط خبروں کا بازار گرم ہو گیا ہے جس کے مطابق اماراتی حکومت کی جانب سے پاکستانیوں کی بڑی تعداد کو نکالنے کی تیاری ہو رہی ہے۔حالانکہ اماراتی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا گیا نہ ہی ایساکوئی پالیسی بیان جاری ہوا ہے یا اعلان کیا گیا ہے۔ عملی طور پر بھی اماراتی حکومت کی طرف سے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ اماراتی حکومت نے صرف وزٹ ویزہ پر پابندی عائد کی ہے، جس کی وجہ کرونا وائرس کو قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اس غیر یقینی صورتحال میں پریشان کن پاکستانیوں کے پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.