ایس او پیز پر ہر صورت عمل کرائیں گے

مکمل لاک ڈاون نہیں کیا جائے گا ، ایس او پیز پر ہر صورت عمل کرائیں گے ، وزیراعظم

کسی کو بے روزگار نہیں کرسکتے ، اس لیے فیکٹریزسمیت روزگاردینے والے مراکزبند نہیں کریں گے ، لیکن کاروبارایس اوپیزکےتحت ہوناچاہیے ، وزیراعظم عمران خان کی لاہور میں پریس کانفرنس
لاہور ( 25 نومبر 2020ء ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوروناسےاموات میں اضافہ ہورہاہے جہاں کورونا سے یومیہ اموات 50 سےبھی بڑھ چکی ہیں ، مجھے لگ رہا ہے کہ ہسپتالوں پر دباو بڑھے گا جس کا ڈر ہے ، تاہم فیکٹریزسمیت روزگاردینے والے مراکزبند نہیں کریں گے ، کسی کو بے روزگار نہیں کرسکتے لیکن کاروبارایس اوپیز کے تحت ہوناچاہیے۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم فیکٹریاں ، روزگار بند نہیں کریں گے ، کوروناسے بچاتے ہوئے لوگوں کوبھوک سےنہیں مارسکتے ، لیکن جس طرح پہلے ہم نے احتیاط کی ، اب بھی احتیاط کی ضرورت ہے ، کوئی بھی ایسی چیزنہیں کرنی چاہیے جہاں لوگ اکٹھے ہوں ، ایس اوپیزپرعملدرآمد سے متعلق اسلام آبادہائیکورٹ کا بھی حکم ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ کورونا کیسزمیں اضافے سے ہسپتالوں پرپریشربڑھ رہاہے ، احتیاط نہ کی توہسپتالوں پرپریشرکےعلاوہ معاشی حالات بھی بگڑسکتے ہیں ، مشکل سے معاشی حالات بہتر ہوئے ہیں ، پاکستان کی معیشت برصغیر میں سب سے تیزی سے بحال ہوئی ، اس لیے ہمیں احتیاط کرنی ہے، پاکستان واحد ملک تھا جس نے رمضان میں بھی مساجد کو بند نہیں کیا ، علما نے حکومت سے تعاون کیا ، مساجد میں ایس او پیز پر عمل کیا گیا ، ایک بار پھرعلما سے اپیل کرتا ہوں کہ اس وقت احتیاط کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جتنے مرضی جلسے جلوس کرے این آراونہیں ملنے والا، اس لیے اپوزیشن عوام کی زندگیوں کوخطرے میں نہ ڈالے، ہم نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ جب تک کورونا کم نہیں ہوتا کوئی جلسہ اور جلوس نہیں کریں گے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ راوی پروجیکٹ اور بنڈل آئی لینڈ پروجیکٹ بہت ضروری ہیں ، 20سال میں لاہور کے درخت 70 فیصد کم ہوگئے ہیں ، لاہور کی ساری گندگی راوی میں جا رہی ہے ، لاہور کا پانی بہت نیچے چلا گیا ہے ، راوی پروجیکٹ سے پانی بچے گا ، لاہور کا زیر زمین پانی اوپر آئےگا ، جب کہ کراچی پھیلتا جا رہاہے جہاں کچرا اٹھ سکتاہے نہ سیوریج کا مسئلہ حل ہوسکتاہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.