منسٹر سے معافی مانگنی پڑی

”مجھے امارات کے لیبر منسٹر سے معافی مانگنی پڑی ہے“

زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ اماراتی وزیر محنت نے مجھ سے گلہ کیا ہے کہ پاکستان اور یو اے ای کی اتنے اچھے تعلقات ہیں تو پھر پاکستانیوں پر ویزہ پابندی کی خبریں کیوں چلائی جا رہی ہیں“
دُبئی(28 نومبر2020ء ) وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ میری یو اے ای کے لیبر منسٹر سے بات ہوئی ہے انہوں نے مجھ سے گلہ کیا ہے کہ پاکستان اور امارات کے اتنے اچھے تعلقات ہیں تو پھر آپ کا میڈیا اماراتی حکومت کی جانب سے پاکستانیوں پر ویزہ پابندی کی خبریں کیوں چلا رہا ہے۔جس پر مجھے ان سے معافی مانگنی پڑی ہے۔ میں نے پہلے بھی اپنے ٹویٹر کے ذریعے پاکستانیوں پر ویزہ پابندی کی تردید کی تھی جو کچھ اینکروں کو پسند نہیں آئی۔ امارات کی جانب سے پاکستانیوں پر ویزے کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں ہے۔ دراصل کورونا کی وبا نے امارات کو بھی بُری طرح متاثر کیا ہے۔ پاکستان یو اے ای کا قریبی ملک ہے، ہمیں ان کے مسئلے کو سمجھنا چاہیے۔امارات والے کہہ رہے ہیں کہ ان کے پاس پہلے ہی بھارت، فلپائن سمیت کئی ممالک سے بہت سے ویزہ ہولڈرز اکٹھے ہو گئے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ پہلے ان پانچ چھ لوگوں کی نوکریاں کا مسئلہ حل ہو جائے یا ان کی امارات میں گنتی کم ہو جائے، تو پھر مزید لیبر کو بُلایا جائے گا یا نئی نوکریاں پیدا ہوں گی۔ البتہ اگر کسی کمپنی نے آپ کو نوکری دے رکھی ہے تو اس کمپنی کی جانب سے لیٹر بھیجے جانے پر آپ کا ویزہ لگ رہا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.