استعمال کرنے کی اجازت مل گئی

اسرائیلی پروازوں کو سعودی حدود استعمال کرنے کی اجازت مل گئی

سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات جانے والی اسرائیلی پروازوں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔اسرائیلی میڈیا
تل ابیب( یکم دسمبر 2020ء) اسرائیلی پروازوں کو سعودی حدود استعمال کرنے کی اجازت مل گئی ۔تفصیلات کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات جانے والی اسرائیلی پروازوں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کو متحدہ عرب امارات جانے کے لیے چار دن کے لیے سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔اسرائیل سے دبئی کے لیے پہلی پرواز آج روانہ ہو گی۔تاہم سعودی عرب کی جانب سے تاحال اس خبر کی تصدیق نہیں کی گئی۔چند دن قبل اسرائیلی وزیرخارجہ نے دعویٰ کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد سعودی عرب بھی جلد ابراہام اکورڈ معاہدے کا حصہ بن جائے گا ۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گابی اشکنازی نے کہا کہ وہ بہت پر امید ہیں کہ جلد ہی سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ امن قائم کرنے والے ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا ۔غیر ملکی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب خطے کا اہم ملک ہے، یہ انتہائی اہم ہوگا کہ ابراہام اکورڈ معاہدے میں سعودی عرب ہمارا اتحادی بن جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں بہت زیادہ پر امید ہوں کہ سعودی عرب ہمارا اتحادی بن جائے گا کیونکہ ان کا رویہ مددگار ہے ۔ انہوں نے بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہمارے معاہدے پر کوئی اعتراض نہیں کیا، اس کے علاوہ 15 ستمبر کو متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے ابراہام اکورڈ معاہدے پر دستخط کیے جانے کے بعد سعودی عرب نے اسرائیلی طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی جو کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی جانب مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے ۔انہوں نے کہا سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کے لیے پورا وقت لے، ہم اس پر دباؤ نہیں ڈالیں گے اور نہ ہی کبھی ہم نے دباؤ ڈالا ہے۔ واضح رہے کہ رواں برس امریکہ کے تعاون سے متحدہ عرب امارات اور پھر بحرین نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا جسے ابراہام اکورڈ کا نام دیا گیا تھا۔ اب اسرائیل کی بھرپور کوشش ہے کہ سعودی عرب بھی اس معاہدے کا حصہ بن جائے۔ گزشتہ دنوں یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ اسرائیلی وزیراعظم نے سعودی ولی عہد سے خفیہ ملاقات کی ہے لیکن جلد ہی سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے ان خبروں کی تردید کر دی گئی تھی ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.