شریف خاندان کا سارا کچا چھٹا کھولا تھا

وہ راز جس وجہ سے شریف فیملی اسحاق ڈار کا تحفظ کرنے پر مجبور ہے

اسحاق ڈار نے 2000 میں ایک بیان حلفی دیتے ہوئے شریف خاندان کا سارا کچا چھٹا کھولا تھا اور بتایا کہ کیسے شریف خاندان منی لانڈرنگ کرتا ہے،ایٹمی دھماکوں کے بعد ڈالر اکاؤنٹس کو منجمد کیا گیا تھا تو اس سے شریف فیملی کو فائدہ ہوا یہ بات بھی بان حلفی سے سامنے آئی تھی۔رؤف کلاسرا کا تجزیہ
لاہور(03 سمبر 2020ء) شہباز شریف اور اسحاق ڈار کے درمیان اختلافات کی وجوہات کیا ہیں،وہ کون سی بات ہے جس وجہ سے نواز شریف اسحاق ڈار سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے،اسی حوالے سے تجزیہ پیش کرتے ہوئے سینئر صحافی روف کلاسرا نے سوال اٹھایا کہ آخر اسحاق ڈار کے پاس ایسی کون سی گیدڑ سنگھی ہے جس کی وجہ سے نواز شریف فیملی ان کا تحفظ کرتی ہے اور وہ ان کے بہت قریب ہیں۔رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کا ایک بیان حلفی موجود ہے جو پچیس اپریل2000 کو دیا تھا جب اسحاق ڈار کی نیب کے ساتھ ایک ڈیل ہوئی تھی جس میں انہیں معافی مل گئی تھی اور اس کے لیے انہوں نے شریف فیملی کے تمام کچا چٹھا کھول دیا تھا۔اسحاق ڈار نے اس بیان حلفی میں پوری تفصیل سے بتایا کہ شریف فیملی نے کیسے منی لانڈرنگ کی کس طرح ڈالر اکاؤنٹس کھولے گئے۔92 میں جو معاشی اصلاحات کا ایکٹ لایا گیا تھا اس سے کیا فائدہ اٹھائے گئے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب ایٹمی دھماکوں کے بعد ڈالر اکاؤنٹس کو منجمد کیا گیا تھا تو اس سے شریف فیملی کو فائدہ ہوا تھا اور یہ بات بھی اُسی بیان حلفی سے سامنے آئی تھی۔یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف ہمیشہ کے لیے اسحاق ڈار کے مخالف ہو گئے اور انہیں سخت ناپسند کرتے تھے۔اس بیان حلفی میں میں اسحاق ڈار نے شہباز شریف سے متعلق زیادہ انکشافات کیے جبکہ نواز شریف پر ہاتھ ہلکا رکھا۔یہ بات آج تک شہبازشریف نہیں بھول پائے اور وہ کہتے ہیں کہ شریف خاندان کو ایکسپوز کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ اسحاق ڈار کا ہے۔بیان حلفی میں بھی شہباز شریف پر ہی زیادہ نزلہ ڈالا گیا تھا جبکہ نواز شریف سے متعلق ہاتھ ہولا رکھا گیا تھا، اس کے بعد اسحاق ڈار سے متعلق شریف فیملی میں دو کیمپ بن گئے تھے۔اسحاق ڈار نے چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی نیب کو بتائی تھی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.