لاکھوں پاکستانی ملازمین کو وقت پر تنخواہیں

سعودی عرب میں اب لاکھوں پاکستانی ملازمین کو وقت پر تنخواہیں ملیں گی

سعودی وزارت افرادی قوت نے اُجرت سے متعلق قانون کے آخری مرحلے کا نفاذ کر دیا
ریاض (2 دسمبر2020ء) سعودی عرب میں روزگار کی غرض سے 26 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں۔ جن میں سے متعدد ایسے بھی ہیں جو کفیلوں کے ہاتھوں اپنے استحصال کا رونا روتے ہیں اور کئی افراد کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ انہیں ماہانہ اُجرت بہت دیر سے دی جاتی ہے، جس کے باعث انہیں اور پاکستان میں موجود ان کے اہل خانہ کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جبکہ کئی کارکنان کا گلہ ہوتا ہے کہ انہیں جس تنخواہ پر سعودی عرب میں بُلایا جاتا ہے، اس سے کم تنخواہ دی جاتی ہے۔ تاہم سعودی حکومت کی جانب سے اُجرت سے متعلق قانون کے آخری مرحلے کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ قانون وزارت افرادی قوت کی جانب سے 2017ء میں منظور کیا گیا تھا۔ جس کے آخری مرحلے میں ان چھوٹے اداروں کو شامل کیاجائے گا جن میں ملازمین کی کم از کم گنتی ایک اور زیادہ سے زیادہ 4 ہے۔سعودی عرب میں ایسے چھوٹے اداروں کی گنتی ہزاروں میں ہے۔ جس کی وجہ سے وہ لاکھوں تارکین بھی تحفظ اُجرت کے قانون سے مستفید ہو سکیں گے، جن کے مالکان پر ابھی تک اس قانون کا نفاذ نہیں ہوا تھا۔ اس قانون کے تحت چھوٹی اور بڑی کمپنیوں اور اداروں کے مالکان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے تمام ملازمین کی تنخواہیں ان کے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کریں گے۔اس لیے تمام کارکنان کا بینک اکاؤنٹ ہونا لازمی ہو گا۔ اس کے علاوہ تمام کارکنان کی ماہانہ تنخواہ کا مکمل ریکارڈ وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرانا بھی لازمی ہو گا۔وزارت کے مطابق جن کارکنان کے ابھی تک بینک اکاؤنٹ نہیں کھُلوائے گئے، ان کے اکاؤنٹ کھُل جانے تک مالکان کی جانب سے ان کی تنخواہوں کی ادائیگی کا چارٹ بنا کر وزارت کو جمع کروانا لازمی ہو گا۔ تاکہ اس امر کا یقین ہو سکے کہ ادارے کی جانب سے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی بروقت ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ اُجرت سے متعلق قانون کے ابتدائی مرحلے میں بڑی کمپنیوں اور اداروں کو اپنے کارکنان کی تنخواہوں کا ریکارڈ اور دیگر کوائف فراہم کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.