دو پاکستانی نوجوانوں

دُبئی میں مقیم 2 پاکستانیوں کو انوکھی جعل-سازی پر گر-فتار کرلیا گیا

پاکستانی کسانوں نے ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے جعلی ویزہ، این او سی اور دیگر دستاویزات تیار کی تھیں
دُبئی(2 دسمبر2020ء) دُبئی میں مقیم دو پاکستانی نوجوانوں کو بڑی جعلسازی پر گر-فتار کر لیا گیا ہے۔ دُبئی پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گر-فتار ملز-مان نے جعلی ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے لیے دستاویزات میں ہیر پھیر کی تھی جس کا انکشاف ہونے پر انہیں گر-فتار کر لیا گیا ہے۔ ملز-مان کو عدالت نے چھ ماہ قید، ڈیڑھ لاکھ درہم جرمانہ اور ڈی پورٹ کیے جانے کی سزا بھی دی ہے۔استغاثہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ملز-مان جن کی عمریں، 23 سا ل اور 29 سال ہیں، انہوں نے اماراتی ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے لیے اپنے رہائشی ویزے کے کوائف میں تبدیلی کی اور ایک ایونٹ مینجمنٹ فرم کا جعلی این او سی بھی تیار کیا جس میں خود کو یہاں کا ملازم ظاہر کیا گیا تھا۔ حالانکہ یہ دونوں پاکستانی زراعت کے پیشے سے منسلک تھے۔ان کی جعلسازی کا انکشاف ہونے پر جبل علی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کروائی گئی۔دُبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA)کے ایک لیگل ریسرچر نے بتایا کہ ایک پاکستانی ملزم نے ڈرائیونگ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے دو ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے لیے اپلائی کیا جس کے بعد ان کی ٹریفک فائل کھول دی گئی۔ تاہم ڈرائیون لائسنس بنانے کے مرحلے کے دوران جب ان کے رہائشی ویزہ کی تفصیلات اور ڈیوٹی کے مقام کی تفصیلات چیک کی گئیں تو ان میں بہت بڑا فرق نظر آیا۔شک پڑنے پر ملز-مان کی آئی ڈیز GDRFA کے ای سسٹم سے چیک کی گئیں تو پتا چلا کہ ملز-مان نے اپنے رہائشی ویزے میں ہیر پھیر کر کے جعلی دستاویزات جمع کروائی تھیں۔ ملز-مان کی جانب سے ایونٹ مینجمنٹ فرم کا فراہم کردہ NOC بھی جعلی نکلا۔ اس دھوکا دہی کے انکشاف پر جعلی دستاویزات ثبوت کے طور پر ضبط کر لی گئیں اور ان کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا۔ عدالت نے ملز-مان کوقید، جرمانے اور ڈی پورٹ کے فیصلے کے خلاف پندرہ دن کے اندر اپیل کا حق دیا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.