برطانوی خاتون نے برطانوی پولیس

پاکستانی نژاد برطانوی خاتون نے برطانوی پولیس میں حجاب متعارف کروا دیا
پولیس انتظامیہ کی جانب سے خاتون پولیس افسر کا بنایا گیا حجاب یونیفارم کا حصہ بنانے کی اجازت دے دی گئی

یارکشائر ( 03 دسمبر2020ء) پاکستانی نژاد برطانوی خاتون پولیس افسر نے برطانوی پولیس میں حجاب یونیفارم متعارف کروا دیا ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی نژاد خاتون پولیس افسر عظمیٰ عامریڈی نے پولیس یونیفارم کے ساتھ میچنگ حجاب متعارف کروا دیا ہے جسے اعلیٰ عہدیداروں کی منظوری کے بعد باقاعدہ یونیفارم کا حصہ بنا دیا گیا ہے ۔نارتھ یارکشائر کی پولیس انتظامیہ کی جانب سے خاتون پولیس افسر کا بنایا گیا حجاب یونیفارم کا حصہ بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے ۔لاہور میں پیدا ہونے والی عظمیٰ عامریڈی 13 سال کی عمر میں برطانیہ شفٹ ہوئی تھیں ۔ انہوں نے دس سال قبل برطانوی پولیس جوائن کی۔ اور وہ پولیس کی پوزیٹو ایکشن مہم کا بھی حصہ رہی ہیں۔ اور عظمیٰ اب پہلی مسلمان خاتون پولیس افسر ہیں جنہوں نے حجاب کو اپنے لباس کا حصہ بنایا ہے ۔پولیس میں حجاب متعارف کروانے کے حوالے سے عظمیٰ کا کہنا تھا کہ انہوں نے پولیس میں حجاب اس لیے لایا ہے تاکہ مسلمان خواتین کو تحفظ اور آسانی میسر آ سکے ۔ واضح رہے کہ عظمیٰ کی جانب سے حجاب پہننے کے بعد ایک اور مسلمان خاتون پولیس افسر آرفہ رؤف نے بھی اس کی حمایت کی اور حجاب زیب تن کیا ہے ۔ اس حوالے سے محکمے کی جانب سے بھی انہیں سپورٹ کیا گیا ہے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.