لندن میں مقیم سابق وزیراعظم نواز شریف

لندن میں مقیم سابق وزیراعظم نواز شریف کا پاسپورٹ ایکسپائر ہونے کے قریب

سابق وزیراعظم نے برطانیہ میں رہنے کے لیے قانونی ماہرین سے مدد طلب کر لی
اسلام آباد ( 04 دسمبر 2020ء) : پاکستان کے سینئیر صحافی عمران ریاض خان نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے متعلق بتایا کہ نواز شریف کے حوالے سے دو بڑی خبریں ہیں ایک تو یہ کہ انہوں نے برطانیہ میں لیگل فرم کو ہائر کیا ہے کہ وہ نواز شریف کو ویزے میں توسیع کروا کر دیں۔ ویسے تو میاں صاحب کے پاس برطانیہ کا ویزا دس سال کا ہے۔ لیکن برطانوی قانون کے مطابق چھ ماہ کے بعد آپ کو اس ملک سے نکلنا پڑتا ہے اور پھر واپس آنا پڑتا ہے۔ پہلے نواز شریف نے کورونا وائرس کا بہانہ لگا کر اپنے ویزے میں توسیع کروائی تھی اور کہا تھا کہ کورونا کی وجہ سے میں نہیں جا سکتا جس کے بعد ان کے ویزے میں توسیع کر دی گئی تھی لیکن اب جب پاکستانی حکومت کی جانب سے برطانیہ کو خط موصول ہو چکے ہیں اور بات چیت چل رہی ہے کہ میاں صاحب کو واپس بھیجیں اور دوسری جانب میاں صاحب کا پاسپورٹ ایکسپائر ہونے والا ہے۔ تو میاں صاحب پریشان ہو چکے ہیں۔ عمران ریاض خان نے کہا کہ پاسپورٹ ایکسپائر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کا پاسپورٹ ایکسپائر ہونے جا رہا ہے اور کوئی اپنا ویزا اپلائی کرتا ہے تو بالخصوص یورپی ممالک میں آپ کو تب تک ویزا فراہم نہیں کیا جاتا جب تک آپ اپنے پاسپورٹ کی تجدید یعنی اُسے ری نیو نہیں کروالیتے۔ ویزا اپلائی کرنے والے کو کہا جاتا ہے کہ پاسپورٹ کی تجدید کروائیں۔ میری اطلاع کے مطابق نواز شریف کا پاسپورٹ اکیس فروری 2021ء کو ایکسپائر ہو جائے گا جس کے بعد اس پاسپورٹ کی قانونی حیثیت ختم ہو جائے گی ۔ اب میاں صاحب کے ویزا میں توسیع ہو گی یا نہیں یہ وہ سوال تھا جس کے لیے انہوں نے برطانیہ میں قانونی ماہرین کو بلایا تھا۔ عمران ریاض خان نے کہا کہ جہاں تک مجھے ٹریول ایجنٹس سے بات کرنے پر پتہ چلا وہ یہ کہ اگر پاسپورٹ ایکسپائر ہو جائے تو ویزا بھی قابل عمل نہیں رہتا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.