خواتین سینیٹرز اور ارکان اسمبلی پر برس پڑیں

جلسے میں خواتین کی تعداد زیادہ چاہئیے،مریم نواز خواتین سینیٹرز اور ارکان اسمبلی پر برس پڑیں‎

جو خواتین رہنما کام نہیں کرتی اور وہ سیلفی گروپ ہیں ،ان کے بارے میں جانتی ہوں، ایسے کام نہیں چلے گا، مریم نواز کا لیگی خواتین پر اظہار برہمی
لاہور ( 05 دسمبر 2020ء) : پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز لاہور جلسہ کامیاب کروانے کے لیے متحرک ہو گئی ہیں،انہوں نے خواتین سینٹرز اور ارکان اسمبلی کو جلسے میں خواتین کی بڑی تعداد لانے کا ہدف دے دیا ہے۔مریم نواز نے خواتین ارکان کی کارکردگی پر بھی برہمی کا اظہار کیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران مریم نواز خواتین سینیٹرز اور ارکان اسمبلی پر برس پڑیں۔
مریم نواز نے واضح کیا کہ جو خواتین رہنما کام نہیں کرتی اور وہ سیلفی گروپ ہیں ،ان کے بارے میں وہ جانتی ہیں اور اب ایسا کام نہیں چلے گا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ 13 دسمبر کے جلسے کے حوالے سے مانیٹرنگ کر رہی ہیں اور جو کام نہیں کرے گی وہ گھر جائے گی اور آئندہ الیکشن میں اسے ٹکٹ نہیں ملے گا، چاہے انہیں شہباز شریف سے خود بات کیوں نہ کرنی پڑے۔ مریم نواز نے کہا کہ وہ آج اکیلی اس جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے کام کر سکتی ہیں تو آپ خواتین کیوں نہیں کر سکتی۔انہوں نے کہا کہ جن خواتین رہنماؤں نے پارٹی فنڈ جمع نہیں کروایا، لسٹ ان کے پاس آ چکی ہے لیکن ان کو احساس کرنا چاہیے۔مریم نواز نے مزید کہا کہ تمام خواتین سینیٹرز اور ارکان اسمبلی میں جلسہ ضروری حاضری لگائی جائے گی، ہر رکن سو سو خواتین اپنے ساتھ لائیں۔ خیال رہے کہ پی ڈی ایم نے 13 دسمبر کو لاہور میں جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس کی میزبانی مسلم لیگ ن کرے گی، ملتان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ 13 دسمبر کو لاہور میں ٹاکرا ہوگا، لاہور کا جلسہ ان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا، لاہور سے ان کا جنازہ نکلے گا اور اسلام آباد تک ان کا پیچھا کریں گے۔ ذرائع کے مطابق لاہور جلسے سے متعلق سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے واضح ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ یہ جلسہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے نماز جنازہ کے اجتماع سے بھی بڑا ہونا چاہئیے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.