خواتین سے کیا برتاؤ کرتے ہوں گے

مرد کے ہاتھ بتا سکتے ہیں کہ وہ خواتین سے کیا برتاؤ کرتے ہوں گے

میک گل یونیورسٹی کے محققین کی اسٹڈی کے مطابق جو ایک میڈیکل جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ایک مرد کے ہاتھ بتا سکتے ہیں کہ خواتین کے ساتھ وہ کس طرح پیش آتا ہوگا۔ اس ریسرچ کے مطابق کسی بھی مرد کے ہاتھ کی سب سے بڑی انگلی اور انگوٹھی والی انگلی کے
درمیان جتنا کم فرق ہوتا ہے وہ خواتین کے ساتھ اتنی ہی زیادہ مہربانی اور خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں‘ ان کی بات توجہ سے سنتے ہیں، انھیں دیکھ کر مسکراتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق بیگمات کے ساتھ ان کی زندگیاں زیادہ خوشگوار ہوتی ہیں لیکن تحقیق کا ایک پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایسے مرد زیادہ بچوں کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ناردمبریا اور آکسفورڈ یونیورسٹیوں کے محققین کی ریسرچ یہ بھی کہتی ہے کہ دونوں انگلیوں کے باہمی تناسب سے یہ بھی پتہ چل سکتا ہے کہ مرد اور خواتین ایک دوسرے سے کس حد تک وفادار یا بے وفا ہیں۔ دوسری جانب دین اسلام نے خاوند پر بیوی کے کچھ حقوق رکھے ہيں ، اور اسی طرح بیوی پربھی اپنے خاوند کے کچھ حقوق مقرر کیے ہيں ، اورکچھ حقوق توخاوند اوربیوی دونوں پر مشترکہ طور پر واجب ہیں ۔ ذیل میں ہم ان شاء اللہ خاوند اوربیوی کے ایک دوسرے پر کتاب و سنت کی روشنی میں حقوق کا ذکر کریں جس کی شرح میں اہل علم کے اقوال کا بھی ذکر کیا جائے گا ۔ بیوی کے اپنے خاوند پر کچھ تومالی حقوق ہیں جن میں مہر ، نفقہ ، اوررہائش شامل ہے ۔ اورکچھ حقوق غیر مالی ہیں جن میں بیویوں کے درمیان تقسیم میں عدل انصاف کرنا ، اچھے اوراحسن انداز میں بود باش اورمعاشرت کرنا ، بیوی کوتکلیف نہ دینا ۔ بیوی کے اپنے خاوند پر کچھ تومالی حقوق ہیں جن میں مہر ، نفقہ ، اوررہائش شامل ہے ۔ اورکچھ حقوق غیر مالی ہیں جن میں بیویوں کے درمیان تقسیم میں عدل انصاف کرنا ، اچھے اوراحسن انداز میں بود باش اورمعاشرت کرنا ، بیوی کوتکلیف نہ دینا ۔ اورمہر کی مشروعیت میں اس عقد کے خطرے اورمقام کا اظہار اورعورت کی عزت و تکریم اوراس کے لیے اعزاز ہے ۔ مہر عقد نکاح میں شرط نہیں اورنہ ہی جمہور فقھاء کے ہاں یہ عقد کا رکن ہے ، بلکہ یہ تواس کے آثار میں سے ایک اثر ہے جواس پر مرتب ہوا ہے ، اگر کوئي عقد نکاح بغیر مہر ذکر کیے ہوجائے توباتفاق جمہور علماء کے وہ عقد صحیح ہوگا ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.