محفوظ زندگی نہ گزار پاتی

”امارات نہ ہوتا میں کبھی اتنی محفوظ زندگی نہ گزار پاتی، مجھے امارات اور یہاں کے حکمرانوں سے بے پناہ محبت ہے“

یواے ای میں 54 برس سے مقیم پاکستانی خاتون کی آنکھیں 49 ویں یوم وطنی پرخوشی سے تر ہو گئیں ، اختر بانو جوان بچوں کی ماں ہونے کے باوجود 15 سال سے تنہا زندگی گزار رہی ہے
دُبئی( دسمبر2020ء) متحدہ عرب امارات کو تارکین وطن اور سیاحوں کے لیے ایک مثالی مملکت کا درجہ حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ جو یہاں کچھ سال گزار لے ، اس کا یہاں سے واپس جانے کو دل نہیں کرتا۔ ایسی ہی ایک پاکستانی خاتون اختر بانو ہے جو متحدہ عرب امارات کے وجود میں آنے سے بھی دس سال پہلے دُبئی آئی اور پھر یہیں کی ہو کر رہ گئی۔74 سالہ اختر بانو جوان بچوں کی والدہ ہے مگر شادی کے بعد اس کے بچے اب الگ رہتے ہیں اور وہ عجمان کے ایک مشہور ٹاور کے چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں مقیم ہے۔ اختر بانو نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ اس کی شادی 20 سال کی عمر میں ہوئی تو وہ اپنے خاوند ’خان صاحب‘ کے ساتھ لکڑی کی کشتی میں بیٹھ کر دُبئی آئی تھی۔ یہ 1960ء کی بات ہے ۔ اس وقت امارات بھی وجود میں نہیں آیا تھا۔اور دُبئی میں بھارتی کرنسی چلتی تھی۔ اس لحاظ سے اس نے یہاں پر اپنی زندگی کے 54 سال گزار دیئے ہیں۔ پاکستانی خاتون نے انکشاف کیا کہ جب وہ اپنے خاوند کے ساتھ آئی، اس کے بھی 11 سال بعد اماراتی ریاستوں کا اتحاد ہونے کے بعد یو اے ای کا قیام ہوا۔ اس نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اس دور میں دُبئی میں ہر طرف ریت ہی تھی ، جس کی وجہ سے لوگ شوز نہیں پہن سکتے تھے اور انہیں سلیپر پہن کر چلنا پڑتا تھا۔دُبئی میں اس وقت سیاحوں کے دیکھنے کے لیے ڈیرہ کی ایک منزلہ عمارت تھی، اس کے علاوہ کچھ بھی خاص نہیں تھا۔ اختر بانو جنہیں اب ان کی بزرگی کی وجہ سے اختر آنٹی بھی کہا جاتا ہے، انہوں نے مزید بتایا”1984ء میری زندگی کا منحوس ترین سال تھا۔ جب میرے خاوند ہارٹ اٹیک سے وفات پا گئے، جس کے بعد اپنے پانچ بچوں کی کفالت کی ذمہ داری میرے سر پر آن پڑی۔میرے مرحوم خاوند ایک بینک میں ڈرائیور تھے، جن کی تنخواہ صرف 220 درہم تھی، مگر ہم اس میں بھی گزر بسر کر لیتے تھے۔ خاوند کے انتقال کے بعد بے سہارا ہونے پر ان کے بینک کی جانب سے خاصی مدد کی گئی۔ جنہوں مرحوم خاوند کی گریچوایٹی کی رقم دینے کے علاوہ میرے بڑے بیٹے کو پارٹ ٹائم نوکری بھی دے دی جو اس وقت گیارہویں گریڈ کا سٹوڈنٹ تھا۔ تاہم جوں جوں میرے بیٹوں کی شادیاں ہوتی گئیں، وہ اپنی بیویوں کے ساتھ الگ ہوتے چلے گئے۔اوریوں میں آج اکیلی رہنے پر مجبور ہوں۔ مجھے عجمان کے النعیمیہ ٹاورکے سنگل بیڈ اپارٹمنٹ میں اکیلے رہتے ہوئے پندرہ سال ہو چکے ہیں۔ مجھے امارات سے بے حد محبت ہے،میں اماراتی حکمرانون کا بہت شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے یہاں مقیم لوگوں کوبے پناہ محبت اور تحفظ فراہم کر رکھا ہے، اسی وجہ سے میں اپنی زندگی کے باقی دن بھی یہی گزارنا چاہتی ہوں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.