کوئی پوچھنے والا نہیں

”کفیل نے 6 ماہ سے تنخواہ نہیں دی ، اقامہ ایکسپائر ہونے پرمفروری کی رپورٹ درج کرا دیتا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں“

مکہ میں مقیم پاکستانی عبدالرحمن نے اپنے سمیت درجنوں پاکستانیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی دُہائی دے دی
مکہ مکرمہ (7دسمبر2020ء) سعودی عرب میں روزگار کی غرض سے 25 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی گنتی کی شکایت رہتی ہے کہ انہیں معاہدے کے مطابق کم تنخواہ دی جا رہی ہے، یا کفیل انہیں کئی ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کر رہا اور تنخواہ مانگنے پر اُلٹا ان کے خلاف کیس درج کروا دیا جاتاہے یا انہیں مفرور ظاہر کر کے ان کے خلاف ’ہروب‘ لگوا دیا جاتا ہے۔مکہ مکرمہ میں مقیم ایک پاکستانی عبدالرحمان نے اُردو نیوز سے رابطہ کر کے کہا ہے کہ وہ اپنے تقریباً ایک سو پاکستانی ساتھی ملازمین سمیت ایک کفیل کے ہاں ملازم ہے۔ تاہم اس کفیل نے ان کے ساتھ ظلم و زیادتی کی انتہا کر دی ہے۔ کفیل انہیں کئی ماہ سے تنخواہ نہیں دے رہا۔ جس کارکن کا اقامہ ایکسپائر ہوتا ہے اس پر ہروب لگا دیتا ہے۔کارکنان کی جانب سے کفیل کے خلاف 6 ماہ سے پرچہ بھی درج کروایا گیا ہے، تاہم ابھی تک کفیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔اس سوال کے جواب میں انہیں بتایا گیا کہ وزارت محنت کی جانب سے آجر و اجیر کے مابین تنازعہ کی صورت میں آن لائن کیس درج کیا جاتا ہے۔ کیس درج ہونے کے بعد فریق مخالف کو بلایا جاتا ہے اگر پہلی پیشی پر مخالف نہیں آئے تو دوسری تاریخ دی جاتی ہے۔کیس درج کرنے کے بعد لیبر آفس کی ابتدائی کوشش ہوتی ہے کہ فریقین کے مابین تنازعے کو حل کر لیا جائے۔اگر ابتدائی کوشش میں حل نہیں ہوتا تو لیبر کورٹ میں کیس از خود فارورڈ ہو جاتا ہے۔آپ کا کہنا ہے کہ کفیل کی جانب سے تنخواہ بھی نہیں دی گئی۔ اس سلسلے میں آپ تنخواہ کے ثبوت عدالت میں پیش کریں۔ جس میں یہ ثابت ہوجائے کہ کفیل کی جانب سے 6 ماہ سے تنخواہ ادا نہیں کی گئی تو لیبر کورٹ از خود نوٹس لیتے ہوئے کفالت کی تبدیلی کے احکامات صار کردے گی۔آپ لوگ مکہ مکرمہ میں ہیں بہتر ہے کہ پاکستان قونصلیٹ کے شعبہ ویلفئیر میں تمام متاثرین کی جانب سے مشترکہ درخواست جمع کرائیں، ساتھ ہی اپنے اقامے کی کاپی اور کیس کی تفصیلات بھی درج کریں۔ قونصلیٹ کی جانب سے لیبر آفس کے مقدمات کے لیے ’ترجمان‘ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.