انٹرویوز شائع ہو چکے ہیں

پاکستانی بچی کی عربی زبان میں شاندار مہارت ، عربوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

آسیہ عارف صرف تین سال کی عمر میں قطری ٹی وی کو عربی میں انٹرویو دے چکی ہیں، 7 سال کی عمر میں عربی میں کتاب لکھ دی، کئی عربی اخبارات میں اس کے انٹرویوز شائع ہو چکے ہیں،سینکڑوں عربی اشعار یاد ہیں
ریاض(7دسمبر2020ء) عربی زبان دُنیا کی مشکل ترین زبانوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ اس زبان کی فصاحت اور بلاغت ایسی ہے کہ عرب بھی ساری عمر اپنی یہ زبان پوری طرح نہیں سیکھ پاتے۔ تاہم ایک پاکستانی بچی نے چھوٹی عمر میں ہی ایسی شاندار مہارت حاصل کر لی کہ عربوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آسیہ عارف کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف تین سال کی عمر میں انہوں نے قطری ٹی وی کو عربی زبان میں انٹرویو دیا۔صرف سات سال کی عمر میں عربی زبان میں کتاب لکھ ڈالی اور پھر کچھ عرصے بعد ان کی دوسری عربی کتاب بھی سامنے آ گئی۔ آسیہ نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے عربی بول چال کورس میں اے گریڈکامیابی حاصل کی۔ آسیہ کے والد اور والدہ دونوں کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔مگر ان کا عربی زبان کو فصاحت و بلاغت کے ساتھ بولنا ہر ایک کو دنگ کر دیتا ہے۔ قومی اخبار ایکسپریس کی جانب سے آسیہ پر ایک تفصیلی فیچر چھاپا گیا ہے جس کے مطابق آسیہ نے نوبرس کی عمر میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے عربی زبان کا ایڈوانس ڈپلومہ بی گریڈ کے ساتھ حاصل کیا۔اس وقت وہ سکول میں تیسری جماعت کی طالبہ تھیں۔ انھیں قطر، کویت، عمان، ترکی اور سعودی عرب کی طرف سے ان کی بچوں کے لئے ادبی خدمات پر متعدد انعامات اور تعریفی اسناد دی گئیں۔آسیہ کی عمر محض تین برس تھی جب انھوں نے قطر میں ایک ٹیلی ویژن چینل کو نہایت فصیح زبان میں پانچ چھ منٹ کا انٹرویو دیا۔ اس پرایک ہزار ریال کا انعام ملا، کئی عربی اخبارات میں آسیہ کے بارے میں پورا صفحہ شائع ہوا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.