ممالک سے بات کر رہے ہیں

پاکستان میں ویکسین آئندہ سال جنوری سے مارچ کے درمیان میں دستیاب ہوجائے گی

کورونا وائرس کی ویکسین کے حصول کے لیے چین، روس اور دیگر چند ممالک سے بات کر رہے ہیں،پہلے مرحلے میں طبی عملے اور زیادہ عمر کے افراد کو دی جائے گی۔ ڈاکٹر فیصل سلطان
اسلام آباد (08 دسمبر 2020ء) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ صحت حکام کورونا وائرس ویکسین کے حصول کے لیے چین، روس سمیت دیگر ممالک سے بات چیت کر رہے ہیں۔ترک نیوز ایجنسی ‘انادولو’ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ ‘ہم اپنی ترجیحی فہرست کو محدود کرنے کے بعد کورونا وائرس کی ویکسین کے حصول کے لیے چین، روس اور دیگر چند ممالک سے بات کر رہے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ویکسین، پاکستان میں آئندہ سال جنوری سے مارچ کے درمیان میں دستیاب ہوجائے گی اور پہلے مرحلے میں طبی عملے اور زیادہ عمر کے افراد کو دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ابھی کچھ حتمی نہیں ہے تاہم میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ ہمیں ایک ذریعے سے زیادہ پر انحصار کرنا ہوگا، جبکہ ہم کوئی بھی ویکسین اس کی افادیت اور محفوظ ثابت ہونے کے بعد حاصل کریں گی۔قبل ازیں ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ جو ویکسین سرکار کے پیسوں سے آئے گی وہ مفت لگے گی ۔ ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ ابھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کورونا کی کون سی ویکسین استعمال کرسکتا ہے، کیونکہ دنیا میں کورونا کی 6 سے 8 ویکسین ہیں جن میں سے 2 سے 3 ویکسین کے نتائج اچھے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک سے زیادہ ذرائع استعمال کرنا ہوں گے، کوشش ہے وہی ویکسین کا استعمال کریں جو ہمارے لیے فائدہ مند ہوں۔ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہے کہ کورونا ویکسین کے ذرائع کیا ہیں، ویکسین مرحلہ وار لگائی جائے گی، پہلے کورونا ویکسین ہیلتھ کیئر ورکرز کو لگائی جائے گی، سب سے پہلے فروری مارچ میں کورونا ویکسین لگائی جاسکتی ہے، دوسرے فیز میں ویکسین کو عوام کو لگائی جائے گی۔ واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے کورونا ویکسین کے حصول کے لیے پہلے ہی ابتدائی طور پر 15 کروڑ ڈالر مختص کر چکی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.