پیپلزپارٹی میں اعتماد کا فقدان

قومی اسمبلی سے استعفوں کے معاملے پر نون لیگ اور پیپلزپارٹی میں اعتماد کا فقدان
دونوں جماعتوں کے ”ووننگ ہارسز“کی جانب سے بغاوت کے خدشے کے پیش نظردونوں جماعتیں پریشان ہیں‘ آئین اور اسمبلی رولزآف بزنس کے تحت اراکین کے استعفے کو منظور ‘نامنظور کرنا یا التواءمیں رکھنا سپیکر کا اختیار ہے‘نوازشریف کے قریبی ساتھی بھی انہیں استعفوں سے بازرہنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں.ایڈیٹر”اردوپوائنٹ“میاں محمد ندیم کا خصوصی تجزیہ
لاہور(خصوصی رپورٹ۔09 دسمبر ۔2020ء) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم )کی جانب سے استعفوں کی دھمکی کے جواب میں حکومت اتنا زیادہ پراعتماد کیوں ہے؟ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاسی تاریخ میں نہ کوئی ایسی روایت ہے نہ اخلاقیات ‘دوسری جانب استعفوں کے معاملے پر پی ڈی ایم کی دونوں بڑی جماعتوں میں فاروڈ بلاک وجود میں آجائیں گےپاکستان میں سیاست ”ووننگ ہارسز“پر چلتی ہے اور یہ ”جیت والے گھوڑے“جماعتوں کے نہیں بلکہ جماعتیں ان کی محتاج ہوتی ہیں لہذا استعفوں کی دھمکی دینا آسان ہے مگر عمل درآمد ممکن نہیں .ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے درمیان اس معاملے پر اعتماد کا فقدان ہے مسلم لیگ نون کے شاید کچھ اراکین استعفے دینے پر تیار ہوجائیں مگر شہبازشریف سمیت پارٹی کے منتخب اراکین کا ایک بڑا حصہ اس کا مخالف ہے کیونکہ انہیں یقین ہے پیپلزپارٹی اپنی سندھ حکومت کو بچانے کے لیے ایسے کسی اقدام کا حصہ نہیں بنے گی اور عین وقت پر آکر اس کے موقف میں تبدیلی آسکتی ہے.اس سلسلہ میں ایڈیٹر”اردوپوائنٹ“میاں محمد ندیم کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے انتہائی اہم ہے اگر پی ڈی ایم حکومت گرانے میں سنجیدہ ہے تو اس وقت سندھ کی صوبائی حکومت کی صورت میں سب سے اہم کارڈ پیپلزپارٹی کے ہاتھ میں ہے آئین کے مطابق کسی بھی ایک صوبے کی حکومت کے مستعفی ہونے سے وفاق کا قومی اسمبلی اور حکومت کو برقراررکھنا ناممکن ہوجاتا ہے تاہم پیپلزپارٹی اس سلسلہ میں نون لیگ کو واضح پیغام دے چکی ہے کہ سندھ حکومت سے دستبردار نہیں ہوگی دوسرا اہم ترین معاملہ ہے جماعتوں کے اپنے اندر توڑپھوڑکے عمل کا کیونکہ آئین کے مطابق ہر رکن کا سپیکر کے پاس جاکر اپنے استعفی کی تصدیق کرنا لازم ہوتا ہے اس کے علاوہ مستعفی ہونے والے رکن اپنے ہاتھوں سے استعفی لکھنا لازم ہے.انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں جب نون دور حکومت میں تحریک انصاف نے استعفی جمع کروائے تھے تو اسپیکر ایازصادق نے ان کی منظوری نہیں دی تھی اسی طرح 18ویں ترمیم کے ذریعے کسی صوبے میں گورنرراج لگانے کو قومی اسمبلی کی منظوری سے مشروط کردیا گیا تھالہذا پیپلزپارٹی محفوظ ترین ہونے کے باوجود سندھ اسمبلی توڑنے کا آپشن استعمال کرنے کو تیار نہیں ہے.انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ استعفوں کے معاملے پر سپیکر کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں ماضی میں کئی اراکین کے تحریری طور پر بجھوائے گئے استعفی فوری منظورکرکے سیٹ کی ڈی نوٹیفکیشن کے لیے الیکشن کمیشن کو بجھوایا گیا مگر زیادہ ترکیسوں میں پارٹیاں ایک طرف استعفی جمع کرواتی ہیں تو دوسری جانب سے حکومت سے خفیہ مذکرات میں انہیں ”ہولڈ“پر رکھنے کی درخواست کرتی ہیں دوسرا ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں کی حکمت علمی دوطرح کی ہوتی ہے ایک عوامی اور دوسری حقیقی عوامی حکمت عملی میں بڑے بڑے اعلانات‘بیانات‘دعوے اور دھمکیاں ہوتی ہیں جبکہ عمومی طور پر حقیقی حکمت عملی اس کے بالکل الٹ چل رہی ہوتی ہے .

Sharing is caring!

Comments are closed.