ہرایشوپربات کرنےکوتیارہیں

نیشنل ڈائیلاگ سے پیچھے نہیں ہٹے ، ہرایشوپربات کرنےکوتیارہیں ، وزیراعظم

کسی بھی صورت میں این آراوپربات نہیں کریں گے، حکومت کوبھیجنےکا آئینی طریقہ تحریک عدم اعتماد ہے، یہ استعفیٰ دیں گےتو ہم انتخابات کرواکر اور زیادہ مظبوط ہوں گے ، وزیراعظم کی سیالکوٹ میں صحافیوں سے گفتگو
سیالکوٹ ( 09 دسمبر2020ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نیشنل ڈائیلاگ سےپیچھےنہیں ہٹے لیکن سیاسی ڈائیلاگ کی بہترین جگہ پارلیمنٹ ہے ، ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہرایشوپربات کرنےکوتیارہیں، لیکن ہم کسی بھی صورت میں این آراوپربات نہیں کریں گے، پارلیمنٹ میں سوالوں کے جوابات دینے کیلئے تیار ہوں ، کیوں کہ جمہوریت تب چلےگی جب مکالمہ ہوگا ، اپوزیشن تحریک عدم اعتماد پیش کرنا چاہتی ہے تو اسمبلی میں آجائے، ۔تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے بات کریں تو وہ مقدمات ختم کرنے کا کہتے ہیں حالاں کہ اپوزیشن پرمقدمات ان کے اپنے ادوار میں درج کیے گئے ، اسحاق ڈارنوازشریف کےبچے گزشتہ دورمیں بیرون ملک بھاگےہیں، ہم کرپشن مقدمات معاف نہیں کرسکتے ، مجھے سمجھ نہیں آرہی یہ کرنا کیا چاہتے ہیں، اپوزیشن جلسوں کےعلاوہ کیاکرسکتی ہے، یہ11جماعتیں مل کربھی پی ٹی آئی جتنےبڑےجلسےنہیں کرسکتیں، حکومت کوبھیجنےکاآئینی طریقہ تحریک عدم اعتماد ہے، یہ استعفیٰ دیں گےتو ہم انتخابات کرا کر اور زیادہ مظبوط ہوں گے، ان کی آوازیں جمہوریت کی فکرمیں نہیں نکل رہی ، ان کوفکریہ ہےکہ اب یہ سب پکڑےجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہماری سب سےبڑی جیت ملک کودیوالیہ ہونےسےبچاناتھا، اس میں کوئی شک نہیں کرسکتاہمیں ہرشعبہ میں تاریخی خسارہ ملا، یہ ملک کومقروض اوربینک کرپٹ کرکےچھوڑگئے ، ہماراسب سےبڑاچیلنج ان حالات سےنکلناتھاجویہ چھوڑکر گئے، بڑی مشکل کےبعدہماری معیشت اوپرجارہی ہے، دوبڑےڈیم اوردونئےشہربن رہےہیں، مجھےسب سےزیادہ خوشی عوام کوصحت انصاف کارڈدینے کی ہے، شوکت خانم بنانےکامقصدغریب کامفت علاج کرناتھا ، فیصلہ کیا پنجاب اورخیبرپختوانخواکےہرشہری کوہیلتھ انشورنس دیں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.