پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ

کورونا کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ رشتے دار عزیز و اقارب قرار

اسلام آباد میں میں 1720 کورونا وائرس کے کیسز عزیزواقارب کی وجہ سے سامنے آئے ، رشے داروں کے ملنے ملانے سے وائرس کی منتقلی ایک سے دوسری جگہ پر ہوئی ، ڈی ایچ او کی رپورٹ میں انکشاف
اسلام آباد (09 دسمبر2020ء) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کوروناوائرس کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ رشتے دار عزیز و اقارب کو قرار دے دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں کورونا کے پھیلاؤ پر ڈی ایچ او کی طرف سے تیار کردہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسلام آباد میں کورونا کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ عزیز واقارب ہیں جہاں رشے داروں کے ملنے ملانے سے وائرس کی منتقلی ایک سے دوسری جگہ پر ہوئی ، اسی وجہ سے شہر میں 1720 کورونا وائرس کے کیسز عزیزواقارب کی وجہ سے سامنے آئے۔بتایا گیا ہے کہ ریسرچ رپورٹ میں کورونا کے گزشتہ 101 روز کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں جس کے مطابق اسلام آباد میں792کورونا کیسز تعلیمی اداروں سے پھیلے ، 694 کیسز کے پھیلاؤ کی وجہ سیروسیاحت کو قرار دیا گیا جب کہ شہر میں دفاتر631 کورونا کیسز کے پھیلاؤ کی وجہ بنے۔اس ضمن میں وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ دو ماہ میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز اور اموات میں چار گنا اضافہ ہوا ہے ، سیکڑوں کی تعداد میں طبی عملہ بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہے، احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئی تو ہفتے یا دو ہفتے بعد مزید پابندیاں لگانا پڑ سکتی ہیں ۔اسد عمر نے کورونا کی دوسری لہر کے پھیلاؤ پر بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں کورونا وائرس سے اوسطاً 60 اموات ہو رہی ہیں ، کورونا وائرس کے معاملے پر عالمی سطح پر پاکستان کی مثالیں دی جاتی ہیں ، انہوں نے کہا کہ12 اکتوبر کو کورونا وائرس کے دو کیسز تھے گزشتہ عشرے میں چار فیصد اضافہ ہوا ہے ، اسد عمر کا کہنا ہے کہ فیصلوں پر عملدرآمد اُس طرح نظر نہیں آرہا جیسے پہلی لہر میں ہوا تھا ، عوامی اجتماعات میں پابندی پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ، انہوں نے مزید کہا کہ اسکول کی بندش اور دیگر پابندیاں مشکل فیصلے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.