پاکستانیوں سمیت تمام اقامہ ہولڈرز پر بجلی گرا دی

کویت نے پاکستانیوں سمیت تمام اقامہ ہولڈرز پر بجلی گرا دی

کویتی اقامہ کے قانون میں ترمیم کر کے اقامے کی میعاد 2 سال سے گھٹا کر ایک سال کر دی
کویت(10دسمبر2020ء) کویت میں تارکین وطن کی گنتی کو گھٹانے کے لیے کئی قانون سازیاں کی جا رہی ہیں ، جن کا ہدف لاکھوں غیر ملکیوں کو کویت سے بے دخل کر کے ان کی جگہ مقامی افراد کو نوکریاں دینا ہے۔ کویتی حکومت نے اقامہ ہولڈرز پر ایک اور بجلی گرا دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کویتی حکومت نے اقامہ ہولڈرز کی دو سالہ مدت گھٹا دی ہے۔اس سلسلے میں ایک خصوصی مسودہ قانون پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا، جسے کثرت رائے سے منطور کر لیا گیا۔ اس قانون کے تحت اب کویت میں مقیم غیر ملکیوں کا اقامہ اب ایک سال کا کر دیا ہے۔ کویتی میڈیا کے مطابق وزارت داخلہ نے غیرملکیوں کو دو سال یا اس سے زیادہ مدت کے لیے رہائش دینے سے روک دیا ہے۔اس فیصلے کا اطلاق کویتی شہریوں کی غیرکویتی بیویاں، کویتی خواتین کے غیرکویتی بچے، غیرکویتی ماوٴں اور غیرکویتی بیوی اور بچوں پر بھی ہوگا۔اس فیصلے کا اطلاق ہر اس غیرملکی اور تارکین وطن پر ہوگا۔ البتہ نجی شعبے سے وابستہ وہ ملازمین جوکویت کے اندر ہیں اور دو سال یا اس سے زیادہ عرصے کے لیے ورک پرمٹ رکھتے ہیں انہیں استثنیٰ حاصل ہوگا۔واضح رہے کویت کی حکومت نے کچھ عرصہ قبل لاکھوں غیر ملکیوں کو نوکریوں سے فارغ کر کے ان کی جگہ مقامی بے روزگار مرد و خواتین کو نوکریاں دینے کا اعلان کیا تھا۔اس فیصلے کے باعث غیر ملکی ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کویت میں موجود پاکستانی ملازمین بھی بہت پریشان ہیں۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے بھی پاکستانی تارکین کی نوکریاں بچانے کے لیے بھاگ دوڑ شروع کر دی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی افراد کو بے روزگار ہونے سے بچایا جا سکے۔ تاہم وزارت اوور سیز پاکستانیز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کویت میں غیر ملکیوں کو فارغ کرنے کی پالیسی سے زیادہ پاکستانی متاثر نہیں ہوں گے۔اس کا زیادہ اثر بھارتی تارکین پر پڑے گا جن کی کویت میں تعداد 13 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ پاکستان بیورو آف امیگریشن کے ڈی جی کاشف نور کے مطابق ’پاکستان کویتی حکام کو اس بات پر قائل کر رہا ہے کہ وہ اس عمل کے دوران پاکستانی ورکرز کو بے روزگار ہونے سے بچائیں۔کویتی لیبر مارکیٹ میں پاکستان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دس سال کی پابندی کے باوجود کویت اب بھی پاکستانی ورکرز کا پانچواں بڑا میزبان ملک ہے۔کویتائزیشن کی پالیسی کے تحت کویتی حکومت نے چند روز قبل آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی تارکین کو مملکت سے نکالنے کا پروگرام بنا لیا ہے۔ کویت کی قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے ایک بل میں سفار ش کی گئی ہے کہ مملکت میں بھارتی باشندوں کی گنتی 15 فیصد سے زیادہ نہیں ہو گی۔ پندرہ فیصد تک کوٹا محدود کرنے کی صورت میں کویت میں صرف ساڑھے چھ لاکھ بھارتیوں کو رہنے کی اجازت ہو گی، باقی 8 لاکھ بھارتیوں کو باہر نکال دیا جائے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.