سعودیہ اور امارات میں پاکستانیوں

سعودیہ اور امارات میں پاکستانیوں کے لیے اب زیادہ ملازمتیں نہیں رہیں

کورونا وائرس کے باعث خلیجی ممالک ملازمتیں اور تنخواہیں گھٹ چکی ہیں، آن لائن ملازمتوں میں اضافہ ہونے لگا
دُبئی(11 دسمبر2020ء) گلف ٹیلنٹ نامی ایک ریکروٹنگ ادارے کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب اور امارات میں اب پاکستان سمیت دیگر ایشیائی ممالک کے باشندوں کے لیے ملازمتوں میں کمی آ گئی ہے۔ اس کے علاوہ تنخواہیں بھی پہلے جیسی نہیں رہیں۔ اُردو نیوز کے مطابق کچھ شعبوں میں ایک ملازمت کے لیے انٹرویو کے لیے بلائے جانے کی اوسط تعداد میں پچاس فیصد تک کمی دیکھی گئی۔سب سے زیادہ کمی شعبہ تدریس اور کیٹرنگ سے منسلک ملازمتوں میں دیکھی گئی جہاں انٹرویوز کے لیے بلائے جانے کی شرح میں بالترتیب 48 اور 35 فیصد تک کمی ہوئی۔انجینیئرنگ، قانون، مارکیٹنگ، آئی ٹی اور فنانس کے شعبوں میں معمولی کمی ہوئی۔دوسری جانب وبا کے دنوں میں کچھ شعبوں میں ملازمتوں کی مانگ میں اضافہ بھی ہوا، بالخصوص طب کے شعبے کی مانگ میں 19 فیصد اضافہ ہوا، اس کے بعد نقل و حمل سے منسلک پیشہ ور افراد کی مانگ 12 فیصد اضافہ بڑھی جس کی ایک وجہ آن لائن شاپنگ میں اضافہ بھی تھی۔گذشتہ ماہ آن لائن اشیا فروخت کرنے والے بڑے ادارے ایمازون نے اعلان کیا تھا کہ وہ سعودی عرب میں 3400 نئی نوکریاں دے رہا ہے، جس میں 60 فیصد سعودی شہری ملازم ہوں گے۔اسی طرح متحدہ عرب امارات میں مقیم امیدواروں کو انٹرویوز کے لیے بلائے جانے کی شرح میں 14 فیصد کمی ہوئی جبکہ سعودی عرب میں یہ تناسب تین فیصد رہا۔گذشتہ ہفتے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں ملازمت کے خواہش مند افراد کو معمولی اثرات کا سامنا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ سعودی عرب میں رواں سال جنوری سے اب تک کاروباری سرگرمیاں اپنے عروج پر رہی ہیں۔آئی ایچ ایس مارکیٹ کے پرچیزنگ مینجرز انڈیکس سروے کے مطابق جنوری کے بعد پہلی مرتبہ سعودی عرب میں روزگار میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔اس کے برعکس انڈیا اور پاکستان میں مقیم امیدوار جو خلیجی ممالک میں روزگار کے خواہشمند تھے، ان کی مانگ میں بھی بالتریب 46 اور 41 فیصد کمی ہوئی کیونکہ پروازوں کی منسوخی اور سرحدوں کی بندش کی وجہ سے بیرون ملک سے ملازمت دینے کا عمل رک گیا تھا۔ کورونا کی وبا کی وجہ سے تنخواہوں میں بھی بھاری کمی ہوئی کیونکہ طلب و رسد کی صورتحال میں ملازمت دینے والوں کا پلڑا بھاری ہوگیا تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.