کفیل کے پاس ملازمت کر سکتے ہیں

سعودیہ میں مقیم پاکستانی کیا پہلے کفیل کی مرضی کے بغیر دوسرے کفیل کے پاس ملازمت کر سکتے ہیں؟
وزارت افرادی قوت کے مطابق اقامہ کی تجدید نہ ہونے پر کارکن اپنی کفالت تبدیل کروا سکتا ہے

ریاض(12 دسمبر2020ء) سعودی عرب میں روزگار کی غرض سے 26 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں، جنہیں کفالت، اقامہ اور دیگر ویزہ مسائل سے آئے رو ز واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ اگرچہ سعودی حکومت کی جانب سے سعودی قانون کفالت میں تبدیلی کا اعلان کردیا گیا ہے جس کے بعد لاکھوں کارکنان کوکفیلوں کے استحصال سے نجات مل جائے گی۔ تاہم نئے قوانین کے مرتب اور نافذ ہونے میں ابھی خاصا وقت باقی ہے۔سعودی حکومت کے مطابق نئے قانون کا اطلاق 15 مارچ 2021ء سے ہو گا۔ سعودی عرب میں مقیم ایک پاکستانی احمد قریشی نے اُردو نیوز سے سوال کیا” میرا اقامہ کئی ماہ سے ایکسپائرڈ ہے۔ کمپنی والے تجدید بھی نہیں کرا رہے ایسے میں، میں کیا کر سکتا ہوں۔ کیا دوسری جگہ کفیل کی اجازت کے بغیر کفالت تبدیل کرا سکتا ہوں، ایک کمپنی سے مجھے اچھی آفر بھی ملی ہوئی ہے؟“ جس کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ وزارت افرادی قوت کے قانون کے تحت غیر ملکی کارکن کے اقامے کی بروقت تجدید کی ذمہ داری کفیل یا کمپنی کی ہے۔اگراقامہ کی تجدید نہیں کرائی جاتی اس صورت میں کارکن کسی دوسری جگہ کفالت تبدیل کرانے کا حق رکھتا ہے۔ وزارت افرادی قوت کا کہنا ہے کہ اقامہ ایکسپائرڈ ہونے کی صورت میں کمپنی کی جانب سے این او سی کے بغیربھی سپانسرشپ ’کفالت ‘ تبدیل کرائی جا سکتی ہے۔کفالت یا سپانسر شپ تبدیل کرانے کے لیے قانون کے مطابق آپ کو کمپنی کی جانب سے این او سی لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ وزارت کی ویب سائٹ پر نئے سپانسر کے ذریعے کفالت کی تبدیلی کی درخواست جمع کرائیں جس میں کفالت کی تبدیلی کے لیے اقامہ کی ایکسپائری مدت بھی درج کردیں۔ وزارت افرادی قوت سے فوری طورپر این اوسی جاری کردیا جائے گا۔ وزارت کی جانب سے کفالت کی تبدیلی کے احکامات جاری ہونے کی صورت میں کارکن کا کیس قانونی طور پرمستحکم ہوجاتا ہے اور کل کو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔تاہم نئی کمپنی میں ملازمت شروع کرنے سے قبل معاہدے کی کاپی ضرورحاصل کرنا بہتر رہے گا کیونکہ آئندہ نئے قونین کے تحت ملازمت کا معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.